چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اپریل 16, 2026 3:12 شام

دامادِ رسول، شوہرِ بتول، شیرِ خدا، علی مرتضی رضی اللہ عنہ* بقلم:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*دامادِ رسول، شوہرِ بتول، شیرِ خدا، علی مرتضی رضی اللہ عنہ* بقلم:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

رمضان المبارک کی فضا میں کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں، جو صرف عبادت کی وجہ سے نہیں، بلکہ تاریخ کے کسی ناقابل فراموش کردار (جنگ بدر، فتح مکہ) یا کسی عظیم سانحے (شہادت خدیجۃ الکبری، شہادت علی) کی یاد سے بھی منور یا سوگوار ہو جاتے ہیں۔ انہی دنوں میں ایک دن وہ بھی ہے، جب جلیل القدر صحابی، دامادِ رسول اور چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ واقعہ صرف ایک شخصیت کی شہادت نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک اہم ترین باب کا اختتام بھی تھا۔ حضرت علی آنجناب ﷺ کے سگے چچا حضرت ابو طالب کے بیٹے تھے۔ حضرت علی کو یہ سعادت بھی حاصل تھی کہ آپ کی ابتدائی تربیت اور پرورش آقائے کریم ﷺ نے خود فرمائی۔ بعثت کے بعد جب حضور اکرم ﷺ نے اپنے قبیلے بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدنا علی نے سب سے پہلے لبیک کہا اور ایمان لے آئے۔ اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس تھی۔آپ کا مکمل نام علی بن ابی طالب جبکہ کُنیت "ابوالحسن” اور "ابو تراب” مشہور ہے۔ آپ کو فاتح خیبر، اسد اللہ، حیدر اور صفدر جیسے عظیم القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ اسلام کے چوتھے خلیفہ راشد تھے۔ آپ کو "السابقون الاولون” میں بھی خاص مقام حاصل ہے۔ آپ "بیعتِ رضوان” اور "اصحابِ بدر” میں بھی شامل رہے۔ آپ کو "عشرہ مبشرہ” جیسے خوش نصیب صحابہ کرام میں بھی شامل ہونے کی سعادت حاصل ہے جنہیں نبی کریم ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ مکی زندگی میں آپ ہر قسم کی آزمائشوں میں رسول پاک ﷺ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔آپ کا نسب حضور ﷺ کے بہت قریب ہے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے سگے چچا کے بیٹے ہیں۔ اور سیدہ خواتین جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے شوہر ہونے کی بنا پر آپ ﷺ کے داماد تھے۔آپ نے بطور خلیفہ جو سب سے پہلا خطبہ دیا وہ کچھ یوں تھا:اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ہدایت دینے والی بنا کر بھیجا ہے، جو خیر اور شر کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس لیے خیر کو لے لیجیے اور شر کو چھوڑ دیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت ساری چیزوں کو حرمت کا درجہ دیا ہے۔ اور ان میں سے سب سے زیادہ حرمت مسلمان کی ہے۔ اصل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دیگر تمام مسلمان محفوظ رہیں۔ کسی مسلمان کےلیے دوسرے مسلمان کو تکلیف دینا ہرگز جائز نہیں۔ عوام اور خواص دونوں کے حقوق ادا کرنے میں جلدی کیجیے۔ لوگ آپ کے سامنے ہیں اور قیامت پیچھے ہے۔ جو آپ سے ملنے کو بالکل تیار ہے۔ اور آخرت کی زندگی لوگوں کے انتظار میں ہے۔ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ جانوروں اور زمین کے بارے میں بھی قیامت کے دن سوال ہوگا۔قارئین! خدا اور رسول سے حضرت علی کی محبت دو طرفہ تھی۔ یعنی ایک اعتبار سے آپ اللہ اور اس کے رسول کے محب تھے اور دوسرے لحاظ سے آپ ان دونوں کے محبوب بھی تھے۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ آج اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا، جو اللہ و رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ و رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آج خیبر فتح بھی فرمائے گا۔ یاد رہے! رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بھی، اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پیشرو خلفائے راشدین: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے ساتھ انتہائی برادرانہ برتاؤ رکھا۔ اور مذہبی و سیاسی امور میں ان کے ساتھ محبت، معاونت اور متانت کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں، جو اہل اسلام کےلیے مشعل راہ ہیں۔آپ کی طبیعت صلح جو تھی۔ اسی لیے آپ نے حضرت معاویہ سے مصالحت کےلیے باہمی رضامندی سے دو ثالث مقرر کر دیے۔ فتنہ باز خوارج اس صلح کے بالکل خلاف تھے۔ لہذا ان میں سے تین خارجیوں: عبدالرحمان بن ملجم الکندی، برک بن عبداللہ تمیمی اور عمرو بن بکر تمیمی نے حرمِ کعبہ میں بیٹھ کر حضرت علی، حضرت امیر معاویہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم اجمعین کے قتل کی سازش رچائی۔ حسب منصوبہ اس قتل گری کےلیے 19 رمضان 40 ہجری کی تاریخ متعین کی گئی۔ اس تاریخ کو صبح کے وقت کوفہ کی مسجد میں خارجی ابن ملجم نے زہر آلود خنجر سے آپ پہ شدید حملہ کیا، جس کے بعد آپ 21 رمضان کو شہید ہو گئے۔ قاتل ابن ملجم کو قابو کر لیا گیا۔ جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گھر لایا گیا۔ تو آپ نے فرمایا: اگر میں اس وار کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو جاؤں، تو اسے قصاصاً قتل کر دینا۔ اور اگر میں زندہ بچ گیا، تو میں بہتر سمجھتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ بالآخر حملے کے کاری وار سے آپ جاں بر نہ ہو سکے اور 21 رمضان المبارک 40ھ کو شہادت کا جام نوش کر گئے۔سلام ہو سیدنا علی پہ! جس کی تلوار نے ہر میدانِ جنگ میں اسلام کا دفاع کیا اور جس کا دل ہمیشہ عدل و انصاف، علم و عمل اور خدا و رسول کی محبت سے معمور رہا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی

تازہ ترین خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی