
جہلم// ادریس چودھری//جس بندے کے اندر توقع اور خوف دونوں کیفیات ہوں اس کے اندر ایمان کی دولت موجود ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان ذکر کثیر سے متعلق قرآن کریم سورہ اعراف کی آخری آیات میں جو حکم فرمایا گیا ہے وہ ذکر خفی اور ذکر قلبی اختیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ذکر صبح شام جب کریں گے تو ایسی کیفیت بن جائے گی کہ ہمہ وقت کا ذکر نصیب ہوگا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ” ہتھ کار ول دل یار ول "کہ اگر آپ معاملات دنیا کی طرف بھی جا رہے ہیں تو آپ متوجہ الی اللہ رہیں گے۔جس سے ہمہ وقت کا ذکر،اللہ کی یاد نصیب ہوگی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا برطانیہ میں دارالعرفان برمنگھم میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے۔ذکر الٰہی کی تین اقسام ہیں لثانی ذکر،عملی ذکر اور ذکر قلبی۔لثانی ذکر جب تک آپ کوئی تسبیح پڑھ رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جب آپ نے کوئی گفتگو شروع کی آپ کا ذکر رک گیا اسی طرح عملی ذکر بھی جب تک آپ کوئی نیک عمل کر رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جونہی آپ نے وہ عمل چھوڑ دیا یا سو گئے تو آپ کا وہ ذکر رک گیا۔لیکن قرآن کریم میں ذکر کثیر کا حکم ہے جو صرف قلبی ذکر سے ممکن ہے جب اللہ کی یاد دل میں رچ بس جاتی ہے تو دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ کی یاد جاری رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف ایسی تسبیح ہے ایسا وظیفہ ہے جو دونوں جہانوں کے لیے کافی ہے۔حدیث شریف کے مطابق درود شریف کا وقت بڑھاتے بڑھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر سارا وقت درود شریف کو دیا جائے تو بہت افضل ہے۔لیکن اس زعم میں نہ پڑجائیں کہ میرے جیسا عبادات گزار کوئی نہیں میرے جیسا نیک کوئی نہیں عجز اور انکساری کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ہمیشہ خود کو عاجز سمجھیں تاکہ کبر قریب نہ آئے۔ آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔



















