چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اپریل 17, 2026 1:08 صبح

عید: خوشیاں بانٹنے کا نام ہے* *لہذا عید کے موقع پر اپنے اردگرد موجود غریبوں کا خیال ضرور رکھیں*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*عید: خوشیاں بانٹنے کا نام ہے* *لہذا عید کے موقع پر اپنے اردگرد موجود غریبوں کا خیال ضرور رکھیں*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

اس بات میں رتی بھر شک نہیں کہ حقوق اللہ (نماز، روزہ، حج، عمرہ، وظائف، ڈاڑھی، پردہ اور اہم مواقع پہ مسنون دعائیں وغیرہ) اسلام کا حصہ ہیں اور ان کی ادائیگی ایک مسلمان پہ لازم ہے۔ مگر یہ اسلام کا ایک جز ہے، کل نہیں۔ کلیت اس میں ہے کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی لحاظ کیا جائے، بلکہ اول الذکر سے بڑھ کر ان کا پاس کیا جائے۔ کیونکہ خدا اپنے حقوق میں کوتاہی تو برداشت کر سکتا ہے، مگر اپنے بندوں کے حقوق میں کوتاہی اسے کسی صورت میں گوارا نہیں۔ پس جو لوگ محض عبادات کے ہو کے رہ جائیں، حقوق اللہ کی ادائیگی ہی کو حرفِ آخر جانیں اور حقوق العباد سے پہلوتہی کریں، تو وہ خدا سے دور ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ خدا کی معرفت اور اس کی قربتیں، اس بندگی سے ملتی ہیں، جو حقوق العباد کی ادائیگی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہو۔ سو ایک حساس انسان ہی ایک اچھا عابد ہو سکتا ہے۔*لہذا* عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ یہ ہم سب مسلمانوں کےلیے خدا کی طرف سے روزوں کی ادائیگی پہ بطورِ انعام خوشیوں کا دن ہے۔ اس دن ہر طرف مسکراہٹیں بکھری ہوتی ہیں۔ لوگ نئے کپڑے پہنتے ہیں، گھروں میں طرح طرح کے کھانے بنتے ہیں اور بچے عیدی لے کر خوشی سے جھومتے ہیں۔ مگر یہی عید تنگ دستوں کےلیے بےبسی اور محرومی کا دن بھی ہوتی ہے۔ مطلب وہ لوگ جو اپنی اور اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، وہ اس دن مایوسی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کے چہروں پہ لکھی حسرتیں اور ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی ان کا کلیجہ چھلنی کر دیتی ہے۔ *یاد رہے!* اسلام ہمیں صرف عبادت کا نہیں، بلکہ انسانیت اور ہمدردی کا بھی درس دیتا ہے، مل بانٹ کر کھانے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ ویسے تو ہر دن غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے، مگر عید کے موقع پہ ان کا خاص خیال رکھنا ہماری اخلاقی اور دینی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اگر ہمارے آس پاس کوئی ایسا خاندان ہو، جس کے پاس عید کےلیے مناسب کپڑے، یا کھانے پینے کا سامان، یا بچوں کےلیے خوشی کا کوئی مظہر نہ ہو، تو ہمیں چاہیے کہ اُن کی مالی مدد کریں، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں دوسروں کے ساتھ شریک ہو سکیں۔سوچیے! ایک طرف وہ بچے ہیں، جو عید کے دن نئے کپڑے پہن کر خوشی خوشی گلیوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں، اور دوسری طرف وہ بچے ہیں، جو پرانے کپڑوں میں خاموشی سے دوسروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اُن کے دل میں بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی اسی طرح عید منائیں، مگر غربت اُن کی خوشیوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔*اگر ہم* تھوڑی سی توجہ دیں، چند کپڑے، تھوڑا سا کچن کا سامان، کچھ مٹھائی یا تھوڑی سی عیدی دے دیں، تو یقیناً اُن گھروں کا آنگن بھی مہک اٹھے گا، ان بچوں کی عید بھی روشن ہو جائے گی اور ان کے چہرے بھی کھل اٹھیں گے۔*اسی لیے* اسلام نے عید الفطر سے پہلے فطرانہ فرض کیا ہے؛ تاکہ غریب اور محتاج لوگ بھی عید کے دن خوشی محسوس کریں۔ جب معاشرے کے صاحبِ حیثیت لوگ اپنے مال میں سے حصہ نکال کر ضرورت مندوں کو دیتے ہیں، تو اس سے نہ صرف غربت کا کچھ بوجھ کم ہوتا ہے؛ بلکہ اخوت اور بھائی چارے کا جذبہ بھی مضبوط ہوتا ہے اور باہمی محبت کے احساسات بھی پروان چڑھتے ہیں۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ خوشیاں صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے ساتھ بانٹنے کےلیے ہوتی ہیں۔ *اگر* ہم اپنے اردگرد موجود غریبوں، یتیموں اور محتاجوں کا خیال رکھیں، تو ہماری تھوڑی سی مہربانی کسی کےلیے بڑی خوشی بن سکتی ہے۔یاد رکھیں! عید اس وقت حقیقی معنی میں عید بنتی ہے، جب معاشرے کا ہر فرد خوش ہو۔ جب کسی غریب بچے کی آنکھوں میں بھی عید کی خوشی چمکے، جب وہ بھی اچھا لباس، اچھا جوتا اور اچھا کھانا کھائے۔ جب کسی محتاج کے گھر میں بھی چولہا جلے، تب ہی عید کی برکتیں مکمل ہوتی ہیں۔*آخر میں آپ احباب* سے یہ التماس بھی کروں گا کہ اپنے آس پاس کے دینی مدارس میں بھی جائیں اور وہاں طلبہ اور اساتذہ سے ملیں۔ انہیں بھی عید کی خوشیوں میں بھرپور شریک کرنے کےلیے ممکنہ حد تک عیدی دیں۔ نیز ہسپتالوں میں مریضوں کے ہاں بھی تھوڑے وقت کےلیے تشریف لے جائیں۔ حالتِ بیماری میں وہاں آپ کی موجودگی اور ان کی مالی امداد نہ صرف مریضوں کے دکھوں میں کمی لائے گی، بلکہ ان کی ڈھارس بھی بندھائے گی۔ بخاری مسلم اور دیگر کتب حدیث کے مطابق کوئی بندہ جتنی دیر کسی مریض کے پاس عیادت کےلیے بیٹھا رہتا ہے، گویا کہ وہ اتنی دیر جنت کے باغیچوں میں ہی موجود ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی

تازہ ترین خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی