
*عیدالفطر کے چند اہم مسائل و آداب* بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
عید الفطر محض خوشی کا دن نہیں، بلکہ شکر، عبادت اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہونے کا خوبصورت موقع بھی ہے۔ یہ وہ دن ہے، جب ایک مہینے کی عبادت کے بعد بندہ اپنے رب سے اجر کی امید اور اس کے حضور سرخرو ہونے کی تمنا رکھتا ہے۔ اس دن کی خوشیوں کو حقیقی معنی میں بابرکت اور پُرمسرت بنانے کےلیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف رسم و رواج تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کے مسنون آداب اور اہم مسائل کو بھی پیشِ نظر رکھیں، تاکہ ہماری عید خوشی کے ساتھ ساتھ اجر و ثواب کا ذریعہ بھی بن جائے۔ ذیل میں عید الفطر کے چند اہم مسائل آپ کی پیشِ خدمت ہیں:1طلوع چاند سے نماز عید ادا کرنے تک بالخصوص عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے تکبیرات: (اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر وللہ الحمد) پڑھنی چاہییں۔2عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے فطرانہ دینا واجب ہے۔3عید کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا اور نیا یا صاف ستھرا لباس پہننا مسنون عمل ہے۔4نمازِ عید کےلیے جانے سے پہلے طاق عدد میں (تین، پانچ ،،،،) کھجوریں یا کوئی میٹھی چیز کھانا سنت ہے۔5عیدگاہ پیدل جانا، جلدی پہنچنا، اور واپسی کےلیے دوسرا راستہ اختیار کرنا مسنون عمل ہے۔6نمازِ عید دو عدد جہری رکعتوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو 12 زائد تکبیرات (7 پہلی اور 5 دوسری رکعت میں رفع الیدین) کے ساتھ عیدگاہ میں پڑھی جاتی ہے۔ اس سے پہلے نہ کوئی اذان ہے اور نہ ہی اقامت۔ 7نمازِ عید کے بعد خطبہ سننا اور دعا میں شریک ہونا نہایت ضروری ہے۔8عیدگاہ میں نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے۔9عید کے دن کسی طرح کا بھی روزہ رکھنا حرام ہے۔10بروزِ عید غریبوں، مسکینوں کے ساتھ تعاون اور اپنے امام صاحب کو کسی نہ کسی انداز میں تحفہ ضرور دینا چاہیے۔قارئین! عید الفطر کے ان مبارک لمحات میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں کو شریعت کے دائرے میں رکھتے ہوئے سادگی، شکرگزاری اور باہمی محبت کو فروغ دیں۔ فضولیات، اسراف اور لہو و لعب سے اجتناب کریں، تاکہ ہم یوم عید سنت نبوی کے مطابق منا سکیں۔ حقیقی عید وہی ہے، جس میں ہم نہ صرف اپنی ذات بلکہ دوسروں کی خوشیوں کا بھی خیال رکھیں۔ اگر ہم ان مسنون آداب اور نبوی تعلیمات پر عمل کریں، تو یقیناً ہماری عید صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ عبادت، رحمت اور بھائی چارے کا حسین امتزاج بن جائے گی۔



















