چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اپریل 17, 2026 1:09 صبح

عید الفطر کی فضیلت اور اہمیت* * *امیر عبدالقدیر اعوان**

*عید الفطر کی فضیلت اور اہمیت* * *امیر عبدالقدیر اعوان:*

عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی خوشی، جشن اور فرحت کے ہیں۔ حضرت قاسم فیوضات اکرم التفاسیر میں سورۃ مائدہ کی آیہ مبارکہ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَةً مِّنْكَ (المائدہ 5: 114) کی تشریح میں عید کا مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں: "عید سے مراد ایسا خاص دن ہے جس میں عظمتِ الہی کا زیادہ اظہار کیا جائے۔” (اکرم التفاسیر7 / 111)گویا نعمت کے ملنے پر اظہارِ مسرت اور اظہارِ تشکر کا نام عید ہے اسی لیے صاف کپڑے پہننا، خوشبو لگانا اور اللہ کے حضور سربسجود ہونا عید کی خصوصیت ہے۔ ‘فطر’ افطار سے ہے جس کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں یعنی روزہ ختم کرنا۔ اسی لیے رمضان المبارک کے اختتام پر منائی جانے والی عید کو عید الفطر کہتے ہیں اور حدیث پاک میں عید کی رات کو ليلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات ارشاد فرمایا گیا ہے۔دراصل عید کا دن رمضان المبارک کے خوش بخت روزہ داروں کے لیے رحمت، بخشش اور نارِ جہنم سے نجات جیسی خوشخبری پانے والوں کے لیے سراپا تشکر ہونے کا دن ہے۔ مختصر سی حیاتِ فانی میں طویل العمری کی عبادات کا ثواب دلانے والی رات، جو ہزار راتوں سے بڑھ کر اجر دلانے والی اور ذاتِ باری کی خصوصی رحمت کی حامل ہے، پانے والوں کے لیے مسرور ہو کر سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے۔ عید کا دن ایک بندہ مومن کے لیے مسرت و فرحت کا دن ہے۔ ایسا دن جس کے لیے رحمت للعالمین ﷺ کا ارشاد ہے:فإذا كانت ليلة الفطر سميت تلك الليلة ليلة الجائزة… (شعب الایمان للبیہقی)ترجمہ: "پھر جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام (آسمانوں پر) ليلۃ الجائزہ (یعنی انعام کی رات) رکھا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں (راستوں) کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات و انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے امتِ محمدیہ ﷺ! اس کریم رب کی (بارگاہ) کی جانب چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے پھر جب لوگ عید گاہ (یعنی عید کی نماز پڑھنے والے مقام) کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ عزوجل فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جو اپنا کام پورا کر چکا ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے تو اللہ عزوجل ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ ان کو رمضان کے روزوں اور اس کے قیام (یعنی تراویح) کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا، میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا (یعنی میرے احکام کا) خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری کرتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم! میری جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہیں کروں گا، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا، پس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو رمضان کے مہینے کے افطار (یعنی عید الفطر) کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔”رمضان المبارک امت محمدیہ کے لیے روحانی تطہیر کا مہینہ ہے۔ ایک بندہ مومن جب خالصتاً اللہ کریم کی رضا کے لیے ایک خاص وقت تک کے لیے خور و نوش ترک کر دیتا ہے۔ گرمی کی حدت اور سردی کی شدت کو خاطر میں لائے بغیر اپنے وجود کو مجاہدہ سے گزارتا اور روز و شب میں آرام کی گھڑیاں بھی اسی کی یاد میں گزارنے کو ترجیح دیتا ہے تو وہ ربِ کائنات، رحیم و کریم، اللہ عزوجل بھی اپنی شان کے مطابق نوازتے ہیں۔ پہلے تو اپنے بندے کی عبادات میں مخل ہونے والے شیطان کو پابند سلاسل کرتے ہوئے آسانی فرماتے ہیں، پھر ان عبادات پر کئی گنا ثواب عطا فرماتے ہیں اور آخر میں ليلۃ الجائزہ سے نواز دیتے ہیں۔ یہ واقعی بڑے کرم کے فیصلے ہیں اور بلا شبہ خوش بخت لوگ ہی ان سے فیضیاب ہوتے ہیں۔قارئین کرام! جب یہ تحریر آپ تک پہنچے گی تو رمضان المبارک کا اختتام ہونے کو ہوگا اور عید الفطر کی آمد آمد ہوگی۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم نے اس رمضان المبارک میں کس حد تک اپنی باطنی طہارت کا اہتمام کیا کہ جتنا یہ اہتمام ہوگا اسی قدر اگلے رمضان المبارک تک کے لیے یہ پاکیزگی ہمیں گناہ و نافرمانی کی آلائشوں سے دور رکھے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اس رمضان المبارک نے قلب و وجود کو اس کے ہر حکم پر تسلیمِ خم کرنا سکھا دیا تو ہر تسلیم و رضا کے ساتھ ایک عید بڑی ہوگی اور جب حیات کا ہر روز عید کی راہ پر چلے گا تو رحمتیں خود ليلۃ الجائزہ کے تعاقب میں ہوں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی

تازہ ترین خبریں

دینہ( ادریس چودھری) دینہ کے نواحی علاقے چھمالہ میں سکول میں بچیوں کے درمیان ھونے والی لڑائی بڑوں تک جا پہنچی۔ فائرنگ سے 57 سالہ شخص اور اس کا بھتیجا جاں بحق ہو گئے۔ایک بھتیجا شدید زخمی، بھتیجے دونوں سگے بھائی ۔ قاتل فیملی سمیت فرار ھو گیا۔ تھانہ منگلا کینٹ پولیس نے تفتیش شروع کر دی