
*رمضان کے بعد بھی مسجدوں کی رونقیں بحال رہنی چاہییں* *اِسی طرح شوال کے چھ روزوں کا اہتمام بھی ضرور ہونا چاہیے* بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
رمضان المبارک اپنے ساتھ رحمت، برکت اور مغفرت کا ایک ایسا سماں لے کر آتا ہے، جس میں مسلمانوں کے دل غیر معمولی طور پر اللہ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ سحری کی بابرکت ساعتیں ہوں، افطار کے روح پرور لمحات ہوں، تراویح کی نورانی محفلیں ہوں یا تہجد کی پرکیف ساعتیں، ہر طرف عبادت کا ایک دلنشیں منظر نظر آتا ہے۔ رمضان المبارک آتے ہی مسجدیں آباد ہو جاتی ہیں، نمازیوں کی صفیں بھر جاتی ہیں، ہر سُو تلاوتِ قرآن کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور دل اللہ کی طرف جُھکتے جاتے ہیں۔مگر افسوس! عید کے بعد مسجدوں کی یہی رونقیں آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتی ہیں۔ نماز کےلیے اللّٰہ تعالیٰ کے گھروں کی طرف جانے والے قدم بازاروں اور کلبوں کی طرف پلٹنے لگتے ہیں، دلوں میں رحمان کی بجائے شیطان بسیرا کر لیتا ہے اور وہ زبانیں جو ذکراللہ سے تر رہتی تھیں، وہ غلاظت اگلنے لگتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا رب صرف رمضان کا رب ہے؟ کیا مسجد سے تعلق صرف ایک مہینے کےلیے ہونا چاہیے؟ کیا قرآن مجید کی تلاوت صرف رمضان میں ضروری ہے؟ حالانکہ قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے: اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آ جائے۔ (الحجر: 99) یعنی بندگی کسی ایک مہینے کے ساتھ مخصوص نہیں، یہ پوری زندگی کا عمل ہے اور مسلسل عمل ہے۔ اس میں انقطاع صرف موت سے ہی ممکن ہے۔ اور عبادت کا بہترین مظہر خدا کا گھر ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، تو عنقریب یہ لوگ ہدایت والوں میں سے ہوں گے۔ (التوبہ: 18) گویا مسجد سے وابستگی ایمان اور ہدایت کی علامت ہے اور یہ جذبہ وقتی نہیں، بلکہ دائمی ہونا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے میں جن سات خوش نصیبوں کو جگہ ملے گی، ان میں وہ بھی شامل ہیں، جن کا دل مسجدوں سے وابستہ ہو گا۔ یہ معمولی فضیلت نہیں۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں، یہ ایمان، تربیت، اخوت اور سکون کا مرکز بھی ہے۔قارئین! رمضان ہمیں صیام، قیام، صبر، ضبطِ نفس اور عبادت کی مشق کرواتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد ہم مسجد سے دور ہو جائیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے رمضان کے پیغام کو پوری طرح نہیں سمجھا یا دلی طور پہ اس پر عمل نہیں کیا۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ مسجدیں صرف رمضان میں بھر جائیں، بلکہ یہ ہے کہ باقی سال بھی اذان سُن کر قدم مسجد کی طرف اٹھیں۔ ہم پہ ہمیشہ کےلیے لازم ہے کہ ہم نماز باجماعت، تلاوتِ قرآن اور مسجد سے تعلق کو اپنی زندگی کا مکمل حصہ بنائیں۔یاد رکھیں! جو لوگ مسجدیں آباد رکھتے ہیں، اللہ ان کے دلوں کو آباد رکھتا ہے۔پس ضروری ہے کہ رمضان کے بعد ہم اپنے آپ سے ایک سچا عہد کریں کہ جس رب کو رمضان میں پکارا، اس کی بارگاہ میں حاضری دی، اسی رب کو باقی پورا سال بھی یاد رکھیں گے۔ جن مسجدوں کو رمضان میں آباد کیا، انہیں بعد میں ویران نہیں ہونے دیں گے۔ مسجد سے تعلق کو وقتی جذبہ نہیں، بلکہ دائمی وابستگی بنائیں گے۔ یہی رمضان کا اصل پیغام ہے اور یہی کامیاب بندگی و زندگی کی علامت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ شوال کے چھے روزے رکھنے کی بھی حتی المقدور کوشش کی جائے، تاکہ اپنے دامن کو اجرِ کثیر سے لبریز کیا جا سکے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے، تو گویا اس نے زمانہ بھر کے روزے رکھے۔ یاد رہے! شوال کے چھ روزے یکم شوال یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے مہینے کے آخر تک الگ الگ کر کے، یا اکٹھے: دونوں طرح سے رکھے جا سکتے ہیں۔ لہذا عید کے بعد ان روزوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ تاکہ اجر عظیم سمیٹا جا سکے۔



















