
پروفیسر خورشید علی ڈار کی رپوٹ کے مطابق ۔
صفاء عابد اسسٹنٹ کمشنر دینہ نے ڈی سی جہلم کی ہدایت پر اج سے دو ہفتے قبل دینہ شہر کی مختلف مارکیٹس کے دکانداروں کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ دکان کے سامنے جو ٹھییے بنا رکھے ہیں ان کو ختم کر دیں بصورت دیگر قانون کے مطابق مجھے ایکشن لینا ہوگا تقریبا ایک ہفتے کے بعد چیف افیسر بلدیہ دینہ میونسپل کمیٹی دینہ مختلف مارکیٹس میں گئے اور انہوں نے دیکھا ہوگا تقریبا 70 فیصد اپنے ٹھیے مسمار نہیں کیے انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے نوٹس میں لایا دکانداروں نے جو انتظامیہ کے ساتھ وعدہ کیا تھا وہ پورا نہیں کیا اج مورخہ 18/11 نومبر اسسٹنٹ کمشنر دینہ نے اپنے رٹ کو قائم کرنے کے لیے شہر دینہ کی مختلف مارکیٹس کی وزٹ کی اور ایسے لوگ جو غلطی کے مرتکب پائے گئے ان کو بڑی سختی سے ہدایت کی کہ اپ نے اپنے وعدے کے باوجود یہ ٹھییے ختم کیوں نہیں کیے؟؟ ان ٹھییوں کی وجہ سے بازار میں جو مرد اور خواتین حضرات اتی ہیں ان کو یہاں سے گزرنے میں تکلیف ہوتی ہے اپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے اج پھر ریکویسٹ کی ہے کہ میڈم ہمیں ایک ہفتے کی مہلت دی جائے میڈم نے انتہائی فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اپ کو ایک ہفتے کی مہلت تو دے رہی ہوں لیکن اگر دوبارہ میں نے دکان کے سامنے کسی کے ٹھییے کو دیکھا ۔تو مجبورا میں سخت ترین ایکشن لوں گی میڈم نے اج نے کسی دکان کو سیل نہیں کیا لیکن اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ اف پنجاب کہتی ہے کہ تجاوزات کو ختم کریں ڈی سی صاحب کہتے ہیں کہ میں گندگی کو مطلق برداشت نہیں کر سکتا خود سختہ مہنگائی کو نہیں دیکھ سکتا بحیثیت شہری اپ لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں یہ اپ کے مفاد میں ہیں اگر اپ ایسا نہیں کریں گے تو قانون کے مطابق مجبورا مجھے ایکشن لینا ہوگا ۔

ا



















