چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 7, 2026 11:13 صبح

منگلا( آصف محمود چودھری) منگلا واپڈا کالونی پرانا سول بازار والی مسجد سے ملحقہ جگہ پر مسجد کے نمازیوں مدرسہ کے بچوں کے لیے اور عوام علاقہ کے لیے مخیر شخص نے واٹر فلٹر لگا دیا

منگلا( آصف محمود چودھری) منگلا واپڈا کالونی پرانا سول بازار والی مسجد سے ملحقہ جگہ پر مسجد کے نمازیوں مدرسہ کے بچوں کے لیے اور عوام علاقہ کے لیے مخیر شخص نے واٹر فلٹر لگا دیا تفصیلات کے مطابق عوامی ضرورت کے پیش نظر بیرون ملک مقیم سماجی شخصیت عدنان قاسم نے اپنے والد محترم مرحوم باؤ قاسم کے نام پر واٹر فلٹر لگوا دیا جس سے عوام مستفید ہوگی یاد رہے کہ اس سے قبل علاقہ کی معروف سماجی شخصیت محمد یاسین چغتائی کی فیملی کے افراد نے مسجد کا بور بھی کروا کے دیا اور دیگر ضروریات بھی پوری کی اب پھر رمضان المبارک کی امد کے پیش نظر ضروریات پوری کی جا رہی ہیں اس موقع پر منگلا مارکیٹ کی سماجی شخصیت محمد سلیم بھائی واپڈا ہسپتال کے ایم ایس محمد زاہد خان اور میڈیکل ڈاکٹر دیگر معززین بھی موجود تھے حاجی محمد اکرم چغتائی برادران سماجی فلائی کاموں میں پیش پیش رہتے ہیں اس موقع پر محمد یاسین چغتائی کا مولانا مفتی جناب پیر محمد ناصر نقشبندی اور قاری صاحبان نے واٹر فلٹر لگوانے پر شکریہ ادا کیا یاد رہے کہ واپڈا کالونی میں صاف فلٹر شدہ پانی کی سخت ضرورت تھی کیوں نہ کہ کالونی میں موجود واٹر فلٹر اکثر خراب رہتے ہیں اس فلٹر کو مسلسل قائم رکھنے کے لیے تمام اقدامات کیے گئے ہیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

تازہ ترین خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی