
دینہ(یاسر صدیق سے) دینہ کے تھانہ منگلا کی حدود قاضی چک کے رہائشی سنگ دل باپ راجہ ذیشان نے اپنے تین سگے بچے گھریلو ناچاکی پر نہر میں پھینک دئیے درندہ صفت سفاک والد ملزم ذیشان کو پولیس نے حراست میں لے لیا بچوں کی تلاش کے لئیے ریسکیو آپریشن جاری ہے تا حال کوئی بچہ نہیں مل سکا تفصیلات کے مطابق دینہ کے نواحی علاقہ قاضی چک ڈھوک صوبیدار کے رہائشی سنگدل باپ نے گھریلو ناچاقی پر معصوم بچوں کو نہر میں پھینک دیا ملزم ذیشان کی عنبرین نامی خاتون سے 9سال قبل شادی ہوئی تھی جنکے بطن سے تین بچے پیدا ہوئے بڑی بیٹی فجر زیشان بعمر 8 سال اور بیٹا عمر بعمر 5سال اور چھوٹی بیٹی نور فاطمہ بعمر آڑھائی سال تھی ملزم زیشان اور عنبرین کا چھ ماہ سے فیملی کورٹ جہلم میں کیس چل رہا تھا معزز عدالت بچوں کی کفالت ماں کو سونپ دی تھی کچھ روز قبل معززین علاقہ کی مدد سے صلح کے بعد ماں عنبرین خاوند کے ساتھ سسرال چلی گئی گزشتہ روز شام کے وقت بچوں کو پارک میں گھمانے کے بہانے گھر سے نکلا اپنے بچوں کے ساتھ بھائی کا نو عمر بچہ بھی ساتھ لیکر گیا مگر گھر واپس نہ لوٹا رات دس بجے کے بعد فون آف ہو گیا صبح کے وقت گھر فون کرکے اور ایک ویڈیو بیان بھیج کر بتایا کہ میں نے بچوں کو پار کر دیا ہے اور بھتیجا میرے ساتھ ہے اسے اور گاڑی کیری ڈبہ کو لے جائیں والدہ عنبرین نے پولیس سے رجوع کرکے ملزم والد ذیشان کو گرفتار کروا دیا جس نے بچوں کو نہر میں پھینکنے کا اعتراف کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر لے گیا مسلسل چھ گھنٹوں سے ریسکیو آپریشن جاری ہے ابھی تک کوئی کامیابی نہیں مل سکی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ غوطہ خور اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے ظالم باپ نے بچوں کو کھڑی شریف نہر لہڑی کے مقام پر نہر میں پھینکا



















