چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جولائی 23, 2026 8:40 شام

شرعاً جائز و ناجائز وسیلہ و توسل کی اقسام*۔۔بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی۔جہلم

*شرعاً جائز و ناجائز وسیلہ و توسل کی اقسام*

*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

ویسے تو تمام علوم و فنون کی طرح شرعی مسائل کے حوالے سے بھی گوگل سمیت تمام انفارمیٹو سائٹس بھری پڑی ہیں۔ تاہم میرے پیارے بھائی سینئر صحافی محمد ادریس چودہری کے توجہ دلانے پر شرعی وسیلہ و توسل کے بارے یہ کالم پیش خدمت ہے۔ قارئین! لغوی طور پر وسیلہ یا توسل سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے کسی ذات تک رسائی یا قُربت حاصل کی جا سکتی ہو۔جبکہ اس کا اصطلاحی معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی قبولیت، اپنی حاجات کی برآری اور اس کا تقرب حاصل کرنے کےلیے کوئی ذریعہ، واسطہ یا وسیلہ تلاش کیا جائے۔ وسیلے کی تین اہم قسمیں شرعی طور پہ جائز ہیں:1ایک صورت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو اس کے اسمائے حسنیٰ یا اس کی رحمتِ خاص کا وسیلہ بنا کر پیش کرے، مثلاً: یااللہ! تجھے تیری رحمت کا واسطہ، ہمارے حال پر رحم فرما، اے اللہ تو اپنے پیارے ناموں کے صدقے میری مشکلیں آسان فرما۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ میں ہے: ((وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا)) الاعراف :180 ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے بہت اچھے اچھے نام ہیں، اس سے ان ناموں کے ساتھ دعا کیا کرو۔2دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسان اپنے نیک اعمال کا توسل پیش کرے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی یہ کیفیت یوں بیان کی ہے: ((الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)) آلعمران :1۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں: ترجمہ: مومن کہتے ہیں: اے ہمارے ربّ! ہم تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسول پر ایمان لے آئے ہیں۔ تو آپ پر ایمان رکھنے اور اپنی نازل کردہ شریعت کو تسلیم کرنے کے طفیل اپنے فضل و رحمت سے ہمارے گناہ معاف کر اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما۔علاوہ ازیں: صحیح بخاری میں اصحاب غار والا مشہور ترین واقعہ موجود ہے، جس میں ان تین مصیبت زدہ لوگوں نے اس مشکل ترین گھڑی میں اللہ تعالیٰ کو اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کیا تو اللہ نے ان کی پریشانی رفع کر دی۔3تیسری جائز صورت یہ ہے کہ کسی زندہ صالح اور موحد ولی اللہ انسان سے دعا کروائی جائے، جیسا کہ سوره نساء آیت کی نمبر (64) میں اس کا تفصیلی ثبوت مذکور ہے۔ اور جیسے صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی مصیبت اور پریشانی میں دعا کرواتے تھے۔اس حوالے سے بہت ساری احادیث موجود ہیں۔ مثلاً سنن ترمذی کے مطابق ایک نابینے شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے حق میں دعا کروائی تھی۔ اسی طرح بخاری شریف کے مطابق خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کی دعا کروائی۔یاد رہے! قرآن و سنت سے وسیلہ یا توسل کی یہی تین قسمیں بالاتفاق ثابت ہیں۔ اور جمہور اہل سنت و الجماعت کا انہی پر عمل رہا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو انہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔جبکہ دوسری طرف شرعی اعتبار سے ناجائز توسل کی وہ صورتیں بھی ہیں جن میں شرک یا بدعت کا پہلو پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ بنیادی طور پر غیر شرعی وسیلہ و توسل وہ ہے جو قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو یا جس سے عقائد صحیحہ میں بگاڑ پیدا ہو، مثلاً:1مخلوق کو مختار کل سمجھنا: جس بزرگ یا ہستی کی دعا کو وسیلہ بنایا جا رہا ہے، اسے حاجت روا، مشکل کشا، نفع و نقصان کا مالک یا کائنات میں متصرف سمجھنا۔2فوتشدگان سے دعا کی درخواست کرنا: یعنی فوت شدہ انبیاء، اولیاء و صالحین سے براہ راست یہ مانگنا کہ آپ اللہ سے میری دعا قبول کروائیں یا ان کی ذات کو براہ راست مشکل حل کرنے کا ذریعہ ماننا۔ مثلاً: قبروں، حجروں، شجروں وغیرہ کے پاس جا کر انہیں توسل بنا کر خدا سے اپنی مشکلات حل کروانا، اولاد طلب کرنا، بارش مانگنا، بلائیں ٹلوانے کی منتیں ماننا۔3غیر شرعی اور خود ساختہ الفاظ کا استعمال کرنا: یعنی ایسے الفاظ استعمال کرنا جن میں عقیدہ توحید کے منافی مفہوم موجود ہو، یا اللہ کی ذات کو چھوڑ کر کسی اور کی قسم یا عہد کا واسطہ دینا وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ اعلى حضرت امام احمد رضا خان فاضل بريلوي کے ترجمہ کنز الایمان کی تفسیر صراط الجنان میں اس آیت: ((یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ)) کی تفسیر میں لکھا ہو ہے کہ اس آیت میں وسیلہ کا معنی یہ ہے کہ "جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو” یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادات چاہے فرض ہوں یا نفل، ان کی ادائیگی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔مطلب اس آیت مبارکہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کا تقرب حاصل کرو یہاں وسیلہ کا معنی قُربت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیسے؟ تو وہ ہم نے اوپر تفصیلی وضاحت کر دی ہے کہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے، اپنی مرادیں پوری کروانے، اپنی دعائیں قبول کروانے کےلیے کون کون سی توسل کی صورتیں جائز ہیں اور کون کون سی ناجائز ہیں۔ اللہ تعالی حق بات پر عمل کی توفیق بخشے آمین !

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں