چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 5, 2026 8:57 شام

فضائلِ صحابہ پر ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کا عقیدت بھرا منظوم کلام**تبصرہ نگار: حافظ ارشد محمود

*فضائلِ صحابہ پر ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کا عقیدت بھرا منظوم کلام**تبصرہ نگار: حافظ ارشد محمود*

یہ مبارک کلام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت، رفعت، مقام اور اہلِ ایمان کے ان کے ساتھ قلبی تعلق کی انتہائی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے نہایت سادہ، پُراثر اور ولولہ انگیز اسلوب میں ان مقدس ہستیوں کے فضائل کو بیان کیا ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا اعلان فرمایا اور جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا لازوال شرف حاصل ہوا۔ایسے مبارک موضوع پر منظومانہ قلم اٹھانا یقیناً سعادت کی بات ہے۔ جس پر ڈاکٹر فیض احمد بھٹی صاحب مبارک باد اور خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔شعر نمبر1*جو ہم نے شانِ صحابہ سنائی آپ کیوں چیخے**رُسوائی مُنکِروں پہ چھائی آپ کیوں چیخے*وضاحت: شاعر نے آغاز ہی میں یہ حقیقت واضح کر دی کہ صحابۂ کرام کے فضائل بیان کرنا قرآن و سنت کا تقاضا ہے۔ اگر کسی کو ان مقدس نفوس کی عظمت بیان کرنے پر تکلیف پہنچتی ہے تو یہ تکلیف حق کی نہیں؛ بلکہ تعصب کی علامت ہے۔ صحابۂ کرام کی شان گھٹانے والا خود رسوائی کا شکار ہوتا ہے۔ کیونکہ جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عزت بخشی ہو، ان پر اعتراض دراصل اپنے آپ کو خسارے میں ڈالنا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ… رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُترجمہ: مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والوں سے اللہ راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ (سورۃ التوبہ: 100)اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا تسبوا أصحابيترجمہ میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔” (صحیح البخاری: 3673، صحیح مسلم: 2541)امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور ان میں سے کسی سے بغض نہیں رکھتے۔”شعر نمبر2*یہ ہیں راضی مجھ پہ اور میں ہوں راضی اِن پہ**خُدا نے خود دی ہے گواہی آپ کیوں چیخے*وضاحت: یہ شعر سورہ توبہ اور سورہ فتح کی ان آیات کی طرف لطیف اشارہ ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار اور بیعتِ رضوان والے صحابہ کرام سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔ جب خالقِ کائنات خود ان کی عظمت کی گواہی دے رہا ہے تو کسی انسان کی مخالفت یا اعتراض کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔یہ شعر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم شہادت کی ترجمانی ہے جو اس نے صحابہ کے حق میں دی۔قرآن کریم: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبہ:100)اور فرمایا: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِترجمہ "اللہ ان ایمان والوں سے راضی ہوگیا جنہوں نے درخت کے نیچے آپ سے بیعت کی۔” (الفتح:18)امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جن لوگوں سے اللہ راضی ہو جائے، ان کے ایمان میں شک کرنا گمراہی ہے۔”شعر نمبر3*ایمان سے لبریز یہ سبھی شمعِ رسالت کے پروانے**اِسلام کی ہیں بنیادی اکائی آپ کیوں چیخے*وضاحت: اسلام کی عمارت جن پاکیزہ نفوس پر قائم ہے اور جن کے ذریعے شریعت دنیا تک پہنچی وہ یہی صحابۂ کرام ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ دین کی دعوت، قرآن کی حفاظت، سنت کی روایت اور اسلامی معاشرے کی بنیاد انہی کے ذریعے قائم ہوئی۔ گویا امت کی پہلی اور مضبوط ترین اکائی یہی مقدس جماعت ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خير الناس قرنيترجمہ”سب سے بہترین لوگ میرا زمانہ ہے۔” (صحیح البخاری: 2652، صحیح مسلم: 2533)امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”صحابہ اس امت کے سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ متقی اور سب سے زیادہ نیک لوگ تھے۔”شعر نمبر4*قرآن و زبور توریت و انجیل میں اِن کے تذکرے**یہ بہت بڑی ہے سچائی آپ کیوں چیخے*وضاحت: اس شعر میں شاعر نے اس قرآنی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی نبی آخر الزمان ﷺ اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں کی بشارتیں موجود تھیں۔ قرآنِ کریم نے بھی اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ ان کی مثال تورات اور انجیل میں مذکور ہے۔ اس سے صحابۂ کرام کی عظمت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ شعر سورۃ الفتح کی آخری آیت کی طرف واضح اشارہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِترجمہ "یہ ان کی مثال تورات میں بھی ہے اور انجیل میں بھی۔” (الفتح:29)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کی عظمت سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی مذکور تھی۔شعر نمبر5*جان و مال اہل و عیال سب قربان کر گئے**رُشنائی کہاں تک پھیلائی آپ کیوں چیخے*وضاحت: صحابۂ کرام نے محض زبانی دعویٰ نہیں کیا بلکہ اپنے مال، جان، گھر، خاندان اور آرام سب کچھ اللہ کے دین پر قربان کر دیا۔ انہی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں اسلام کا نور عرب سے نکل کر دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچا۔ شاعر نے "رُشنائی” کے لفظ سے اسلام کی اسی عالمگیر روشنی کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔صحابۂ کرام نے اپنا سب کچھ اللہ کے دین کےلیے قربان کردیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ”اللہ نے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں۔” (التوبہ:111)حضرت ابوبکرؓ نے اپنا سارا مال پیش کیا، حضرت عثمانؓ نے جیشِ عسرہ کو تیار کیا، حضرت علیؓ نے ہجرت کی رات اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔ یہی وہ قربانیاں ہیں جن سے اسلام پوری دنیا میں پھیلا۔شعر نمبر6*ریاضُ الجنہ میں لیٹے ہیں ابوبکر و عمر پہلو میں**رَشک میں ڈوبی ہے ساری خدائی آپ کیوں چیخے*وضاحت: رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی تدفین ان کے عظیم مقام کی روشن دلیل ہے۔ یہ ایسا شرف ہے جو دنیا میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ شاعر نے اس عظیم سعادت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کا منفرد شرف حاصل ہوا۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:”رسول اللہ ﷺ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ایک ہی حجرے میں مدفون ہیں۔” (صحیح البخاری)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر وعمر”میرے بعد ابوبکر اور عمر کی اقتدا کرنا۔” (جامع ترمذی: 3662)شعر نمبر7*عثمان و علی کو ملی دامادی محمدِ مصطفیٰ کی**کیا شان دونوں نے پائی، آپ کیوں چیخے*وضاحت: حضرت عثمان غنی اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما دونوں کو رسول اللہ ﷺ کے داماد ہونے کا عظیم ترین شرف حاصل ہوا۔ حضرت عثمانؓ کو دو صاحبزادیوں سے نکاح کی سعادت ملی، اسی لیے انہیں ذوالنورین کہا جاتا ہے، جبکہ حضرت علیؓ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ ملا۔ یہ دونوں حضرات امت کے جلیل القدر ائمہ اور خلفائے راشدین ہیں .رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے متعلق فرمایا:”اگر میری اور بیٹی ہوتی تو میں اس کا نکاح عثمان سے کرتا۔” (فضائلِ عثمان کے آثار)حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا:أنت مني وأنا منك”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔” (صحیح البخاری: 2699)شعر نمبر8*سب اُمّہات میں بی بی عائشہ کا فقط یہ اعزاز ہے**تصویر جس کی عرشوں سے آئی آپ کیوں چیخے*وضاحت: یہ شعر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے منفرد مقام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ احادیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں ان کی صورت دکھائی گئی، جو ان کے ساتھ نکاح کی بشارت تھی۔ بعد ازاں وہ امت کی عظیم معلمہ، محدثہ اور فقیہہ بنیں، جن سے ہزاروں احادیث مروی ہیں۔ شاعر نے ان کے اسی خصوصی اعزاز کو بیان کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے تم (عائشہؓ) خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔” (صحیح البخاری: 3895، صحیح مسلم: 2438)شعر نمبر9*محبوبِ خدا نے فیض اُنہیں اپنا محبوب جانا**کیا ہی اعلیٰ ہے رَسائی آپ کیوں چیخے*وضاحت: اختتامی شعر میں شاعر نے صحابۂ کرام کی اس عظیم سعادت کو بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے محبوب، رازدار، مددگار اور رفقائے خاص تھے۔ نبی کریم ﷺ کی محبت اور قربت کا جو مقام انہیں حاصل ہوا، وہ کسی اور امت کو نصیب نہیں ہوا۔ یہی ان کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے اعلیٰ رسائی ہے۔ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الله الله في أصحابي”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔” (جامع ترمذی: 3862)امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "صحابہ کی خوبیاں بیان کرنا اہلِ سنت کی علامت ہے، اور ان کی برائیاں بیان کرنا اہلِ بدعت کی نشانی ہے۔”*اختتامی کلمات*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کا یہ کلام محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، ان کے فضائل اور ان کے مقام و مرتبے کا ایک ایمان افروز اظہار ہے۔ انہوں نے نہایت سادہ مگر پُرتاثیر انداز میں قرآن، سنت اور تاریخِ اسلام کی روشن حقیقتوں کو منظوم کیا ہے۔ ایسے دور میں جب بعض حلقے صحابۂ کرام کی عظمت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس قسم کا ایمان افروز کلام اہلِ ایمان کے دلوں میں محبتِ صحابہ کو تازہ کرتا اور دفاعِ صحابہ کے جذبے کو مضبوط بناتا ہے۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو ان کی اس دینی خدمت پر بہترین جزائے خیر عطا فرمائے، ان کے قلم میں مزید برکت، تاثیر اور اخلاص پیدا فرمائے، اور ہمیں بھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سچی محبت، ان کے نقشِ قدم کی پیروی اور ان کے ادبب و احترام پر ہمیشہ قائم رکھے آمین۔*حافظ ارشد محمود حیات**جامعہ اسلامیہ اہل حدیث پنڈی گھیب*

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

تازہ ترین خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی