جہلم: DHQہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

،جہلم (محمد الیاس کھوکھر) DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی ، 13 لاکھ آبادی والے ضلع میں 35 بیڈز ہی دستیاب ہیں ، لاہور یا راولپنڈی ریفر کرنے کی بجائے محدود وسائل میں رہ کر یہیں علاج کر رہے ہیں ، ایم ایس ڈاکٹر زاہد تنویر کی میڈیا سے گفتگو، حال ہی میں مشیر صحت پنجاب نے جدید ترین کیتھ لیب اور سٹروک سنٹر کا افتتاح کیا ہے جو کہ اچھا اقدام ہے لیکن بچوں کے لئے بیڈز انتہائی ناکافی ہیں ، سول سوسائٹی ، تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم کے چلڈرن وارڈ میں ہر بیڈ پر 2،2 بچے ایڈمٹ ہیں اس طرح وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور 70 مائیں ہیں ۔ شدید گرمی اور حبس میں وارڈ میں داخل بچے اور مائیں سخت ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہیں ۔ گرشتہ رات میڈیا ٹیم نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم کے چلڈرن وارڈ کا دورہ کیا جہاں سخت گرمی اور حبس تھا ائیر کنڈیشنر بند تھا وہاں تقریباً ہر بیڈ پر 2،2 بچے پڑے تھے اور پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کی برابر تھی ۔ میڈیا ٹیم کو دیکھتے ہی وارڈ میں داخل بچوں کی ماؤں نے شکایات کے انبار لگا دیے ۔ انھوں نے کہا کہ دیکھیں وارڈ میں کتنی گرمی اور کتنا حبس ہے ۔ ائیر کنڈیشنر بند ہے ۔ پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بچوں کی ماؤں نےکہا کہ ہمارے بیمار شیر خور بچے سخت گرمی میں بلک رہے ہیں لیکن یہاں ائیر کنڈیشنر 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6 گھنٹوں کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ۔ گرمی اور حبس سے ہمارے بیمار بچے تڑپتے رہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر کے راؤنڈ کے ٹائم پر یہ ائیر کنڈیشنر لازمی چلاتے ہیں ۔ وارڈ میں داخل ایک بچے کی ماں نے میڈیا ٹیم کو بتایا کہ میرے بیڈ کے اوپر پنکھا نہیں ہے اتار لیا گیا ہے میں نے متعدد بار کہا ہے کہ پنکھا لگا دیں لیکن یہاں میری کوئی نہیں سنتا میں ساری رات اپنے بچے کو ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دیتی ہوں ۔ عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال کو کروڑوں روپے کے فنڈز ملتے ہیں لیکن چلڈرن وارڈ میں بچوں کے بیڈز کی تعداد صرف 35 ہے بیڈز کی تعداد دُگنی کی جائے جبکہ سول سوسائٹی کا کہنا ہے مشیر صحت پنجاب میجرجنرل ( ر ) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی نے حال ہی میں ڈی ایچ کیو ہسپتال جہلم میں ایک جدید ترین کیتھ لیب اور سٹروک سنٹر کا افتتاح کیا ہے جو کہ ایک جوش آئند اقدام ہے لیکن بچے جو ہمارا مستقبل ہیں اُن کے علاج کے لئے اس ہسپتال میں بیڈز انتہائی ناکافی ہیں ۔ صبح جب سینئر صحافی محمد الیاس کھوکھر نے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم ڈاکٹر زاہد تنویر سے ٹیلفونک رابطہ کر کے چلڈرن وارڈ بارے استفسار کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ابھی صبح کے 8:30 بجے ہیں اور میں ہسپتال میں راونڈ پر ہوں ۔ میں انتہائی ذمہ داری اور ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی کر رہا ہوں ۔ 13 لاکھ والی آبادی کے ضلع میں ہمارے ہستال میں صرف 35 بیڈز ہی دستیاب ہیں ۔ ہم مریض بچوں کو لاہور یا راولپنڈی ریفر کرنے کی بجائے انہی بستروں سے کام چلا رہے ہیں اس لئے ایک بیڈ پر 2، 2 بچے ایڈمٹ ہیں ۔ ہم محدود وسائل میں رہ کر اسی ہسپتال میں علاج کر رہے ہیں ۔ واضع رہے کہ وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور مشیر صحت پنجاب میجر جنرل ( ر) ڈاکٹر اظہر محمود کیانی اسی حلقے سے ہیں ۔



















