




میر پور(آصف محمود چوہدری) چھوٹی دکھنے والی ہیرا پھیری کا بڑا نقصان غیر معیاری نلکی بکرم دھاگہ سپلائی اور فروخت سے عوام کے سلائی ہونے والے کپڑے جلد بےکار ہونے لگے تفصیلات کے مطابق انتہائی چھوٹا کاروبار نظر انے والا نلکی دھاگہ بکرم لیس گوٹا کناری کی اشیاء ناقص اور غیر معیاری ہول سیل اور پرچون فروخت ہونے لگے اس کاروبار میں اچھا اور درست کام کرنے والے پریشان ہونے لگنے لگے اور غیر معیاری ناقص اشیا سپلائی کرنے والے اس منافع بخش کر بار میں جیبیں بھرنے لگے ہیں جبکہ عوام درزیوں سے کپڑے سلائی کراتے وقت ناقص چیزیں استعمال ہونے پر ہزاروں روپے کے قیمتی کپڑے نقصان کروانے لگے جبکہ گھریلو عوام جو خود کپڑے سلائی کرتے ہیں وہ بھی ان کا شکار ہونے لگے نلکی دھاگہ بکرم لیس گوٹا کناری کا کاروبار چھوٹا نظر اتا ہے اور اس کے ریٹ پر کسی کی خاص توجہ نہیں ہوتی اور معیار چیک کرنے کے لیے بھی کوئی مناسب بندوبست نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ناقص اور غیر معیاری اشیا سپلائی کرنے والے اور بنانے والوں کی چاندی ہو چکی ہے عام عوام جو بازار سے چار یا پانچ ہزار کا سوٹ یا اس سے بھی قیمتی خرید کر سلائی کراتی ہے ان کی سلائی چند دنوں بعد ہی سلائی کا معیار سامنے ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہزاروں روپے کا سوٹ ناقص سلائی کی وجہ سے خراب ہو جاتا ہے اس طرح نلکی بکرم گوٹا کناری کا کام کرنے والے چند لوگ جو غیر معیاری ناقص اشیاء سپلائی اور فروخت کرتے ہیں عوام کی جیبیں خالی کر رہے ہیں اور درزی حضرات کو بھی چونا لگا رہے ہیں جن کو عوام ناقص سلائی کا شکوہ کرتے نظر اتے ہیں اس غیر معیاری اور ناقص اشیاء کا کام کرنے والے بہترین کام میں پڑچکے ہیں کیوں نہ کہ انتظامیہ اور عوام کی توجہ اس طرف نہیں جاتی جب کہ عوام کا ہزاروں روپیہ برباد ہو رہا ہے عام خرد و نوش کی اشیاء سپلائی کرنے والے اوپر پرچون بیچنے والوں کو انتظامیہ چیک کرتی ہے سرکاری ریٹ لسٹ مہیا کرتی ہے لیکن اس غیر معیاری ناقص کام کرنے والے چند لوگوں کو گرفت میں لینے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا عوام نے انتظامیہ کے ذمہ داران سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کا نقصان کا عمل رک سکے



















