چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اکتوبر 24, 2026 3:40 صبح

قربانی….تحریر: حضرت مولاناامیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ

قربانی ….تحریر: حضرت مولاناامیر محمد اکرم اعوان رحمتہ اللہ علیہ ہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہم قربانی اس لیے کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور قربانی کرنے کا حکم دیا۔آپ ﷺ نے حج کے موقع پر بھی قربانی کی اور حج کے علاوہ ہر عید قربان پر بھی قربانی کی۔ قربانی ایک عمل ہے جس سے قربانی کے جانور کو معین دنوں میں اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے وہ کیفیت نصیب ہو تی ہے جو حضرت ابراھیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنی شان کے مطابق نصیب ہوئی اور ہر مسلمان کو اپنی حیثیت اپنی استعداد،اپنے خلوص کے مطابق نصیب ہو تی ہے۔قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز دنیا کا کوئی کام کوئی محبت،کوئی پیار،کوئی عزیز ترین رشتہ،کوئی محبوب ترین شے اللہ کی اطاعت کے مقابلے میں رکاوٹ نہ بنے۔ظاہر ہے کہ ہر عبادت کے اپنے انوارات اور اپنے ثمرات ہو تے ہیں اور ہر بندے کے الگ ہوتے ہیں کیونکہ ہر بندے کا اللہ سے رشتہ الگ ہو تا ہے ایک ہی جگہ دس بندے نمازپڑھتے ہیں لیکن ہر ایک کی کیفیت الگ ہو تی ہے۔اس کے ایما ن اس کے خلوص اور اس کے دل کی گہرائی کے اعتبارسے مختلف ہو تی ہے۔اسی طرح ہر اطاعت پر بندے کی حیثیت کے مطابق انوارات و برکات نازل ہو تی ہے۔اسی واقع میں دیکھیے ایک ابراھیم خلیل اللہ ایک اسماعیل ذبیح اللہ۔دونوں اللہ کے اولوالعزم رسول ہیں۔ایک ذبح کرنے والا ایک ذبح ہونے والا اور یہ سب محض اللہ کے نام پر اللہ کے حکم پر ساری محبتیں،سارے تعلقات،سارے رشتے اپنا اور اولاد کا سارا مستقبل چھری کی ایک جنبش کے نیچے ہے۔اس پر کس قسم کی رحمتیں نازل ہونگی۔کس طرح کی تجلییات برسی ہوں گی۔کون سی کیفیات عطا ہو ئی ہوں گی۔اب یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے امت محمدیہ علٰی صاحب الصلوہ والسلام کو قربانی کرنے کا حکم دے دیا۔آج ہمیں بطفیل محمد رسول اللہ ﷺ اللہ نے یہ سعادت بخشی ہے کہ ہم بھی اللہ کی راہ میں جانور ذبح کریں اور ان رحمتوں کا،ان عنایات کا اور اللہ کی اس بخشش کا مزا لیں اور وہ کیفیات ہم پر بھی وارد ہوں۔اس بخشش سے ہم بھی حصہ لیں تو یہ قربانی کی حقیقت ہے۔اور عوام الناس کے لیے روئے زمین پر اللہ نے یہ رحمت کا دروازہ کھول دیا کہ جو مسلمان جہاں ہے وہ اس دن قربانی کرے تو اللہ کریم اسے وہی برکات عطا فرما دیتا ہے اور اسے سمجھ آجاتی ہے کہ دین کا مقصد کیا ہے؟دین مکمل اطاعت کانام ہے۔ رب کریم کا یہی وہ احسان ہے کہ اس نے ابراھیم کے اس عمل میں نبی کریم ﷺ کی امت کو شریک فرمایا اور قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔اسی تاریخ پر کرنے کا حکم فرمایا اور اس دن یومِ عید قرار دیا اور پھر اس قربانی پر وہ کیفیت نازل ہوئی اس کیفیت کے اجر کو ہر انسان اپنی عملی زندگی کو پرکھ کر خود جان سکتا ہے۔قربانی کا مقصد اس جزبے کو حاصل کرنا ہے جس سے بندہ اللہ کی خوشنودی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرے اور اس کے حصول کا ذریعہ اللہ نے قربانی رکھا ہے۔حضور ﷺ نے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور سکھایا ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے قربانی کرو۔ یہ یقینی بات ہے کہ اگر ہم نے خلوص کے ساتھ قربانی کو تو صرف بکرا قربان نہیں ہو گا صرف جانور ذبح نہیں ہو گا بلکہ اللہ کی توفیق بھی عطا ہو گی کہ ہم اللہ کے لیے اپنے مفادات کو بھی قربان کر سکیں۔ہم عبادات کے اوقات میں آرام قربان کر سکیں۔ہم حلال کے مقابلے میں حرام کو چھوڑ سکیں۔ہم بھوک قبول کر لیں اور حرام نہ کھائیں۔جھوٹ بولنا چھوڑ دیں خواہ ایثار کرنا پڑے۔کہیں نقصان بھی اٹھانا پڑے۔اگر ہم نے حضور ﷺ کے احکامات کے مطابق قربانی کی،خلوص کے ساتھ کی تو ہماری قربانی قبول ہو گی اور جب کوئی ذرہ ان انوارات کا نصیب ہوا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم میں عاداتِ ابراھیمی آنا شروع ہوجائیں گی ہم بھی اپنے مفادات اللہ کے احکام پر قربان کرنے کا حوصلہ پالیں گے۔ قربانی کے اس ایک نتیجے سے ہی ہم پرکھ سکتے ہیں کہ ہماری قربانی رسمی رواجی تھی یا خلوص کے ساتھ تھی۔کیا میرے دل میں وہ جزبہ آیا ہے یا نہیں۔ہر ایک کے دل کا حال یا اللہ جانتا ہے یا کسی حد تک بندہ خود اندازہ کر سکتا ہے۔حقیقی قربانی تو ان لوگوں کی ہے جو سب کچھ اللہ کے لیے قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔حقیقی قربانی تو ان خوش نصیبوں کی ہے جو راہ حق میں کام آئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا ۔

تازہ ترین خبریں

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب