
پروفیسر خورشید علی ڈار کی رپوٹ کے مطابق ۔. میڈم غزالہ اصغر اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ نے ایچ پی وی ویکسین کی حقیقت کے متعلق کھل کر اظہار خیال کیا بقول ان کے ہمارے معاشرے کا ہر فرد بیک وقت ڈاکٹر ۔۔۔۔انجینیئر۔۔۔۔ حکیم۔۔۔۔عالم دین۔۔۔۔ سیاستدان مالی امور کا ماہر بنا ہوا ہے اس سے معاشرے میں نقصان ہوتا ہے ہر شخص کو اپنے شعبے کے متعلق اظہار خیال کرنے کا حق ہے بنیادی طور پر کینسر کے لیے جو ویکسین ہوتی ہے وہ عام طور پر مدافتی نظام کو اس طرح ترتیب دیتی ہے کہ وہ کینسر سے مخصوص خلیات کو پہچان کر ان پر حملہ کرتی ہے نیز اس ویکسین کا کوئی منفی اثر نہیں ہوتا کینسر کی صورت میں بعض اوقات اسی ویکسین کا استعمال کرنا پڑتا ہے دنیا کے تمام ممالک میں اس کا استعمال ہو رہا ہے جو چیز 150 ممالک میں استعمال ہو رہی ہے وہ پاکستان کے لیے غیر ضروری کیوں ہے ۔بعض لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ غلط پروپگنڈا کر رکھا ہے کے ویکسین لگانے سے عورتیں بانجھ پن کا شکار ہو جائینگی ہم نے دیکھا ہے کہ پولیو ویکسین کے متعلق بھی زہریلا پروپگنڈا کیا گیا تھا آج صرف پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے مریض ہیں بلاشبہ اس ویکسین کی مخالفت کر کے ہم پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں پاکستان میں مایہ ناز ڈاکٹر فیصل سلطان نیز قومی اسمبلی کے ممبران نیز سینیٹرز اپنی بچیوں کو ویکسین لگوا چکے ہیں لہذا خدارا سوشل میڈیا کی طرف توجہ نہ دیں اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے مذکورہ ویکسین کا استعمال ضرور کروائیں




















