چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

مئی 21, 2026 1:10 صبح

حج کی حقیقت! تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان

حج کی حقیقت! تحریر: مولانا امیر محمد اکرم اعوان بیت اللہ روئے زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس پر ہر حال ہر وقت اللہ کی ذاتی تجلیات برستی ہیں۔تجلیات باری ہمہ وقت اس پر متوجہ رہتی ہیں۔اور کعبتہ اللہ اس کیفیت سے کبھی خالی نہیں رہتا۔حاجی وہاں اس حال میں حاضر ہوتا ہے کہ جس حال میں اللہ کے بندے میدانِ حشر میں اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔حاجی وہ حال اسی فانی دنیا میں اسی عالمِ فناء میں بنا کر اللہ کے روبرو ہو تا ہے۔یہ ایک کیفیت ہے جو انسان کی سوچ اور اس کے دل کی گہرائیوں سے تعلق رکھتی ہے۔یہی وہ قلبی کیفیت ہے جو حج سے مقصود ہے جس کے بارے حضور اکرم ﷺکا ارشاد پاک ہے کہ جس نے حج کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا گویا وہ دنیا میں آج پیدا ہوا ہے۔اس کے سارے گناہ دُھل گئے گناہ تو دُھلنے ہی تھے جب وہ اللہ کریم کے روبرو کھڑا ہو گیا۔تجلیات ِذاتی اس پر پڑیں تو گناہ تو دُھل ہی جانے تھے۔لیکن بندہ روبرو کھڑا تو ہو۔حج سے مراد تو وہ باطنی کیفیت ہے کہ بندہ دل کی گہرائی کے ساتھ خود کو اللہ کے روبرو کھڑا محسو س کرے اور اس کا اثر دمِ مرگ ہی نہیں مرنے کے بعد بھی باقی رہے۔قبر میں بھی تجلیات باری اور اللہ کی حضوری نصیب رہے۔حشر میں بھی اللہ کی حضوری اور اس کی تجلیات نصیب ہوں۔ حج کا حاصل بھی یہی ہے جو تمام عبادات کا حاصل ہے کہ بندے کا تعلق ربِ کریم کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا جائے۔اُسے حضوری حق نصیب ہو جائے۔ہمہ وقت اپنے پروردگار کو حاضر سمجھے۔اللہ تو ہر وقت ہر جگہ موجود ہے ہم نے اپنی کسی کوشش،کاوش یا عبادت و دُعا سے اللہ کریم کو بلانا نہیں ہے وہ فرماتا ہے ترجمہ: (تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے) تو پھر حضوری حق کے لیے یہ محنت کیا معنی رکھتی ہے۔حضوری حق سے مراد یہ ہے کہ ہمیں بھی اس کا ادراک ہو۔اللہ تو موجود ہے۔ہم اس سے غائب ہو تے ہیں۔ہمارا یہ احساس بھٹک جاتا ہے کہ اللہ موجود ہے یا یہ احساس مر جاتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔حج ادا کرنے سے صرف حاجی کہلانا مقصد نہیں ہے۔بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو قربِ الٰہی نصیب ہو تو وہ بلکل بدل جائے جب وہ سوچے تو اُسے احساس ہوکہ میرا اللہ میرے پاس ہے بولنے لگے تو یہ احساس ہوکہ میرا اللہ سن رہا ہے کوئی کام کرنے لگے تو اُسے پتہ ہو کہ میرا اللہ میری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے۔یہ احساس اگر کسی نصیب ہو جائے یہ شعور بیدار ہو جائے تو وہ کتنا بھلا انسان بن جائے گا۔ اگر کسی کو حرم کی حاضری نصیب ہو تی ہے ایمان کے ساتھ بیت اللہ شریف تک رسائی ہوئی تو یہ اللہ کا ایک کرم ہے اور بندہ وہاں پہنچ کر سستی کرتا ہے۔کوتاہی کرتا ہے اور جو احساس نصیب ہو تا تھا کہ اللہ بہت بڑا ہے اور بندہ اس کی عاجز مخلوق ہے۔وہ اُسے حاصل نہیں ہو تا اور اس کے بجائے وہ اپنی بڑائی کے زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اُسے اپنے پارساہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے تو یہ کام بلکل ہی بدل گیا۔ہمارے زمانے کے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ سفر ہر حال میں مبارک ہے،حالانکہ ایسا نہیں ہے اگر سفر حج میں بھی اور ارکان ِ حج کی ادائیگی میں بھی لاپرواہی اور گوتاہی کو اختیار کیا تو یہ بات غضب الٰہی کو دعوت دینے کا سبب بن جاتی ہے۔بیت اللہ کی ایک نماز جہاں ایک لاکھ کا ثواب پاتی ہے وہاں کی نماز چھوڑ دینا گویا ایک لاکھ کو ضائع کرنا ہے۔ حج کی تمام منزلوں پر اللہ کریم باربار اپنی طرف متوجہ ہونے اپنی رضا کو حاصل کرنے کی طرف رغبت دلاتے ہیں،کبھی فرمایا اللہ کے لییحج اور عمرہ کرو،کبھی فرمایا: عرفات سے لوٹو تو شعر الحرام کے پاس اللہ کو یاد کرو جیسا تمہیں بتلایا گیا ہے۔قرآن کے اس حکم (جس طرح تمہیں ہدایت دی گئی ہے) سے واضح ہوا کہ کوئی عبادت اور طریقہ عبادت اس وقت تک قبول نہیں،جب تک اس کی سند سنتِ رسول ﷺ سے بھی حاصل نہ ہو۔عبادات نئں بھی اور عام معاشرت میں بھی کوئی شخص کبھی اپنے لیے امتیازی صورتِ اختیار نہ کرے کہ اس سے نفرت اور باہمی دشمنی پیدا ہو گی اور مل کر رہنے سے باہمی اخوت اور محبت لہذا سب کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کرو اور اپنی کوئی امتیازی شان نہ چاہو بلکہ اللہ سے استغفار چاہتے رہو۔حج افض ترین عبادت ہے اس میں ذکرو فکر شکر و احسان مجاہد ہ و امتحان سب کچھ موجود ہے اور اگر حج میں کسی کا مقصد اور نیت یہی رہی کہ لوگ میرا احترام کریں مجھے دنیا میں بہت سے دولت مل جائے یعنی مقصد حصول دنیا ہی ہو تو وہ ایسا محروم ہو تا ہے کہ آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ باقی نہیں رہتا۔قبولیت حج کی دلیل یہی ہے کہ دل دنیا کی محبتسے خالی ہو جائے اور آخرت کی رغبت پیدا ہو جائے۔اللہ ہمارے گناہ معاف فرمائے اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت نصیب فرمائے توبہ قبو ل فرمائے نیک انجام میسر فرمائے اللہ حج بھی نصیب کرے اور فرائض کی ادائیگی بھی نصیب ہو تو ضروری یہ ہے کہ ان عبادات کا حاصل حضور حق نصیب ہو۔اللہ کریم سب کو نصیب فرمائے(امین)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں