چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اکتوبر 25, 2026 2:49 شام
تازہ ترین خبریں

ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔ امیر عبد القدیر اعوان

ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔ امیر عبد القدیر اعوان

جہلم ( ادریس چودھری) ٰٓایمان اور سود آپس میں بالمقابل ہیں۔اگر کوئی ایمان کا دعوی بھی کرے اور پھر سود کا لین دین بھی کرے تو انجام وہی ہوگا جو کفر کرنے والوں کا ہوا۔دوزخ کی آگ کفر کے لیے تیار کی گئی ہے۔اللہ کے حبیب کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور اگر تم یہ خیال کرومیرے رکوع و سجود سے مجھے جنت مل جائے گی بلکہ جنت تو اللہ کی رحمت سے عطا ہوگی۔ہم تو پہلے اتنا لے چکے ہیں کہ شکرانہ ادا نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ ہم اس گمان میں رہیں کہ میری عبادات اتنی ہو چکی ہیں کہ اب جنت واجب ہو گئی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔حقیقی فلاح کی بنیاد اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔حقیقی کامیابی کا انحصار بھی اسی زندگی پر ہے لیکن ان حدود میں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں۔حدود اللہ سے تجاوز کر کے حقیقی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی کامیابی دائمی ہوتی ہے جس سے مراد دونوں جہانوں کی کامیابی ہے یہ دنیا آخرت کا سایہ ہے۔اس زندگی کو بسر کرنے کے لیے اعلٰی اصول درکار ہیں جو ہمیں دین اسلام دیتا ہے۔ذاتی پسند نا پسند سے صرف فساد پیدا ہوگا۔خواہشات اور نفس کا جہاں غلبہ ہو وہاں ٹھہراؤ نہیں ہوگا۔ٹھہراؤ اور سکون صرف دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ دین اسلام دین فطرت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم حقیقی کامیابی جنت کو بیان فرماتا ہے یعنی وہ فلاح پاگیا جو جنت میں داخل ہو گیا۔ہمارے ماہ و سال اتنی تیز ی سے بسر ہو رہے ہیں،ہر شئے اپنے اختتام کی طرف چل رہی ہے لیکن ہمیں کوئی فکر نہیں،یہی وقت ہے جس میں ہم نے آخرت تعمیر کرنی ہے۔ہمارا اختیار کلی نہیں لیکن اپنی ذات پر تو ہے اس سے پہلے کہ موت آجائے آج کچھ کرنے کے قابل ہیں اپنی اصلاح کریں نیک اعمال کریں زندگی حسرت پر تو ختم نہ ہو،یاد رکھیں مومن کی زندگی میں حسرت نہیں رہتی۔نور ایمان وہ دولت ہے جس سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی لیکن ہمیں اپنے ایک ایک عمل کو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں لانا ہوگا۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخرت میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا

تازہ ترین خبریں

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب