
*زیادہ نمک کھانے کے نقصانات*
بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
نمک دراصل ایک قدرتی معدنی مادہ ہے، جس کا کیمیائی نام سوڈیم کلورائیڈ (NaCl) ہے۔ یہ ہمارے کھانوں کو نہ صرف ذائقہ دیتا ہے، بلکہ جسم میں پانی کا توازن بھی برقرار رکھتا ہے۔ انسان اور جانور دونوں کی بقا کےلیے نمک ضروری ہے۔نمک بنیادی طور پر دو ذرائع سے حاصل ہوتا ہے: 1پہاڑی یا قدرتی نمک: یہ نمک زمین میں نمک کی چٹانوں سے نکلتا ہے۔ پاکستان میں دنیا کا مشہور ترین پہاڑی نمک ہے، جسے عام طور پر کھیوڑہ کا نمک یا پنک سالٹ بھی کہا جاتا ہے۔ 2سمندری نمک: سمندر کے پانی میں پہلے سے نمکیات موجود ہوتے ہیں۔ کھلی جگہوں پر سمندری پانی کو بڑے بڑے حوضوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں پانی سورج کی گرمی سے بخارات بن کر اُڑ جاتا ہے۔ اور نیچے نمک کے سفید چھرے یا ذرات رہ جاتے ہیں، جنہیں اکٹھا کر کے صاف کیا جاتا ہے۔ پہاڑی نمک سمندری نمک کی نسبت زیادہ قدرتی اور معدنی عناصر والا ہوتا ہے۔قارئین! نمک کھانا ضروری ہے۔ مگر جب یہی نمک ضرورت سے بڑھ جائے، تو یہ ذائقہ کن نہیں بلکہ زہر کن بن جاتا ہے۔ بلڈ پریشر بڑھا دیتا ہے۔ نمک میں موجود سوڈیم جسم میں پانی روک لیتا ہے۔ نتیجتاً خون کا دباؤ بڑھتا ہے، دل پر بوجھ پڑتا ہے، اور دل کا دورہ، دل کی کمزوری اور دیگر امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نمک زیادہ کھانے سے دماغ کی باریک رگوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔ چکر، بھولنے کی عادت اور ذہنی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔ گردے کمزور ہو جاتے ہیں۔ گردے فالتو نمک خارج کرنے میں تھک جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ نہ صرف ان کی کارکردگی کم ہوتی جاتی ہے، بلکہ ان کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہڈیاں پتلی اور کمزور ہونے لگتی ہیں۔ زیادہ نمک جسم سے کیلشیم کم کر دیتا ہے۔ جس سے گھٹنوں، کمر اور جوڑوں کا درد بڑھنے لگتا ہے اور جسم میں سوجن آ جاتی ہے۔ اگر چہرہ، ہاتھ، پاؤں اور پیٹ پھولے ہوئے محسوس ہوں، تو یہ واضح اشارہ ہے کہ جسم میں نمک زیادہ ہو رہا ہے۔ اگر آپ کے خون میں سوڈیم کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے، تو آپ کا جسم نمک کو پتلا کرنے کےلیے پانی کو آپ کے خلیات سے نکال لیتا ہے، جس کے نتیجے میں آپ کو کافی کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔ زیادہ نمک کھانے سے پانی کی کمی ہو جاتی ہے، جس سے معدے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ آپ کو متلی، اسہال، یا پیٹ میں درد محسوس ہو سکتا ہے۔ زیادہ نمک آپ کو زیادہ پیاسا بنا سکتا ہے، جس کی وجہ سے آپ زیادہ پانی پینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جسم کےلیے کتنا نمک کافی ہے؟ اس پر ایکسپرٹ نے بتایا کہ ایک انسان کےلیے روزانہ تقریباً 5 گرام نمک کافی ہوتا ہے۔ یاد رکھیں! نمک کھانے کا ذائقہ بڑھاتا ہے، لیکن زیادہ کھایا جائے تو یہ زندگی کا ذائقہ چھین لیتا ہے۔ پس اس کے کھانے میں اعتدال سے کام لیں اور اپنی صحت کو بحال رکھیں۔



















