
پروفیسر خورشید علی ڈار کی رپوٹ کے مطابق ۔ریلوے نظام کی تباہی کا کون ذمہ دار ہے ؟؟انڈیا اربوں روپے سالانہ منافع حاصل کر رہا ہے جبکہ پاکستان سالانہ اربوں کا نقصان برداشت کر رہا ہے دینہ اسٹیشن پر ایک عدد انجن نمبری پی ۔ایچ۔اے 8315 کھڑا ہے یہاں پر کھڑے ہوئے اس کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے ۔۔ہر روز تقریب 2 تا 4 بجے دو معزز ملازم تشریف لاتے ہیں وہ یونیفارم میں نہیں ہوتے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ولیمہ میں شرکت کرنی ہے ۔۔انجن کو سٹارٹ کریں گے اور واپس تشریف لے جائیں گے اگر مذکورہ انجن خراب ہے تو دینہ میں قیام کا کیا مقصد ہے اس کو ریل گاڑی کے ذریعے ورک شاپ میں پہنچایا جا سکتا ہے اور اس کی مرمتی ہو سکتی ہے بلاشبہ بددیانتی نے ریلوے نظام کو تباہ کر دیا ہے جب ملازمین کی اکثریت کام کیے بغیر تنخواہ حاصل کریں گے تو ریلوے نظام نے تباہ ہونا ہی ہے پی ائی اے کو فروخت کر چکے ہیں اب ریلوے کو ناگزیر حالات کے پیش نظر فروخت کرنا ہوگا بصورت دیگر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔



















