
*کیا انتقالِ خون جائز ہے؟*قسط نمبر1
بقلم
ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
فاضل مدینہ یونیورسٹیبعض دوستوں کی طرف سے کئی بار بالتکرار یہ بات سنائی اور دہرائی جاتی ہے کہ انتقالِ خون حرام ہے۔ یعنی کسی ایک انسان کا خون دوسرے انسان کو لگانا جائز نہیں۔ بقول اُن کے یہ نہ تو قرآن سے ثابت ہے، نہ کسی حدیث سے ثابت ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس لیے اس عمل سے باز رہنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اسے حرام قرار دیا ہے۔ پھر اس پر وہ یہ آیت بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں: ((اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الۡمَیۡتَۃَ وَ الدَّمَ وَلَحۡمَ الۡخِنۡزِیۡرِ وَمَاۤ اھلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللّٰہِ))*قارئین!* یہ ایک فکری مغالطہ ہے، جو اس آیت کے اصل مدعا کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس سے ایک تو ان کا قرآن فہمی کا ناقص زاویہ سامنے آتا ہے اور دوسرا اس سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا سامنے آتا ہے۔ جبکہ انتقالِ خون نہ صرف سماج کی ضرورت ہے، بلکہ مذہبی حوالے سے یہ اس آیت کے عملی زمرے میں آتا ہے، جس میں فرمایا گیا ہے کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا ہے۔*اس مسئلے میں* سب سے پہلے ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ جمہور معاصر علما اور تمام مکاتب فکر کے نزدیک انتقال خون کو واضح طور پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ یعنی کسی بھی انسان کی جان بچانے کےلیے "بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت” خون دیا لیا جا سکتا ہے۔ ان علما اور مکاتب فکر کا تفصیلی تذکرہ ہم اس کالم کی اگلی قسط میں کریں گے۔ یہاں ابتدا میں یہ وضاحت کرنا اس لیے ضروری تھا تاکہ آپ کے ذہنوں میں سب سے پہلے یہ بات مستقر ہو کہ جمہور علمائے امت کا انتقالِ خون کے حوالے سے جواز کا واضح موقف موجود ہے۔*قارئین!* انتقال خون کے حوالے سے دیگر دلائل تو ہم بعد میں پیش کریں گے، لیکن سرِ دست یہاں وہ دلیل آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، جسے بعض دوست "انتقال خون” کی ممانعت و حرمت کےلیے بار بار پیش کرتے ہیں، کہ جی اس آیت کے مطابق خون لگانا حرام ہے۔*آئیے! پہلے ہم مذکورہ آیت اور اس سے ملتی جلتی دیگر آیات مع ترجمہ ملاحظہ کرتے ہیں:* ((انَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَلا اثْمَ عَلَيْهِ انَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ)) سورۃ البقرة۔ ترجمہ: اس نے بے شک تم پر مُردار، اور خون اور سور کا گوشت، اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے۔ پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے تو نہ نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ ہی حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔اسی قبیل کی دوسری آیت ((حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا اهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ۔۔۔۔۔ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لاثْمٍ فَانَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ)) سورۃ الْمَآئدَة۔ ترجمہ: تم پر حرام کر دیا گیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔۔۔۔۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں اضطراری حالت کو پہنچ جائے کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔اور ایک تیسری آیت سورۃ النحل میں ہے: ((قُلْ لَّآ اجِدُ فِىْ مَآ اوْحِىَ الَىَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٝ الَّآ انْ يَّكُـوْنَ مَيْتَةً اوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اوْ لَحْـمَ خِنزِيْرٍ فَانَّهٝ رِجْسٌ اوْ فِسْقًا اهِلَّ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ بِهۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَانَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ)) ترجمہ: کہہ دو کہ میں اس وحی میں جو مجھے پہنچی ہے کسی چیز کو کھانے والے پر حرام نہیں پاتا جو اسے کھائے؛ مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ وہ ناپاک ہے یا وہ ناجائز ذبیحہ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، پھر جو بھوک سے بے اختیار ہوجائے ایسی حالت میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا ہو، تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔*قارئین!* ان تینوں آیات پر اگر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں جو چیزیں حرام بتائی گئی ہیں: وہ نمبر1 مردار کھانا، یہ جانوروں کے مردار کے حوالے سے ہے۔ نمبر2 خون پینا، یہ بھی جانوروں کے خون کے بارے میں ہے۔ نمبر3 لحم الخنزیر یہ بھی خنزیر کا گوشت، پوست اور چربی وغیرہ، یہ بھی ایک نجس جانور ہے۔ نمبر4 جو غیر اللہ کے نام پر دی جائے، وہ کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے، خاص طور پہ کسی جانور کا تقرباً ذبیحہ کرنا۔ *دوسرے لفظوں* میں یہ کہ اگر کسی حلال چیز کو غیر اللہ کے نام پر قربت الہی حاصل کرنے کےلیے پیش کیا جائے تو وہ حرام ہو جاتی ہے۔*یہاں* سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِن تینوں آیات میں انسانی خون کے حوالے سے کوئی بات ہوئی ہے؟ تو جواب یہ ہوگا کہ بالکل نہیں! *تو پھر* سوچنے کی بات ہے کہ کیوں اس آیت کو دلیل بنا کر انسانی انتقال خون کو حرام قرار دیا جا رہا ہے!؟ جبکہ انسانی خون کا یہاں تو تذکرہ ہی نہیں!!!*دوسرا سوال* اگر بالفرض یہ سمجھ لیا جائے کہ یہاں خون سے مراد کوئی بھی خون ہو سکتا ہے،،،، حتیٰ کہ انسانی خون بھی ہو سکتا ہے۔ *تو پھر* اس دعوے پر ایک مزید سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ یہاں تو خون پینا حرام قرار دیا گیا ہے، جسم میں لگانا نہیں!!!*چلیے* اس سے بھی تھوڑا سا آگے جاتے ہوئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ یہاں انسانی خون ہی مراد ہے؛ لہذا خون لگانا حرام ہے۔ *تو پھر* انہی تینوں آیات کے آخر میں یہ بھی موجود ہے۔ اور واضح طور پہ موجود ہے کہ مردار، خون، خنزیر اور غیر اللہ مھلل شدہ چیز اصلاً حرام تو ہیں؛ *مگر* ((فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ)) کے تحت جب بندہ مجبور ہو جائے تو جان بچانے کےلیے جہاں اس پر مردار کھانا، غیر اللہ مُھلّل شدہ چیز حتی کہ خنزیر تک کھانا جائز ہے (جس کے بارے میں مفسرین، محدثین، فقہاء اور موجودہ سائنسدانوں نے بھی کہا کہ وہ نجس العین و الغین ہے، اس کی ہر چیز پلید ترین ہے) پھر بھی اسے کھایا جا سکتا ہے۔ کس لیے!؟ جان بچانے کےلیے۔ *اگر جان* بچانے کےلیے یہ سب کچھ استعمال کرنا جائز ہے، تو جان بچانے کیےلیے مجبوراً خون پینا یا لگانا بھی جائز ہے۔ جیسا کہ ان تینوں آیات کے آخر میں تفصیلاً موجود ہے۔ *جس کا مطلب* یہ بنے گا کہ دوسری حرام چیزوں کی طرح "بوقت ضرورت اور حسب ضرورت” خون بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ *بلکہ* اکثر مفسرین اور فقہائے متین نے تو مجبوری کی حالت میں حرام کھا کر جان بچانا واجب قرار دیا ہے، اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو اسے اپنی جان کا بذات خود قاتل کہا گیا ہے۔*مگر انتہائی* افسوس اس بات پر ہے کہ جو لوگ (ان آیات مبارکہ کو دلیل بنا کر کئی سالوں سے انتقالِ خون پر حرمت کے فتوے جڑ رہے ہیں۔ اور خلق خدا کی جان بچانے کےلیے جو رضاکار خون کی تحصیل و ترسیل کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں ان کو نشانہ تنقید بناتے ہیں) وہ ان آیات کی ابتدا کو تو مانتے ہیں، جبکہ آخری حصے کو دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ *کاش* وہ اس فتوے کے مہلک مضمرات کا اندازہ لگاتے اور کتب تفاسیر اور کتب احادیث کی روشنی میں ان آیات کو سمجھتے، تو ان پہ یہ مسئلہ آ شکار ہو جاتا کہ کسی کی جان بچانے کےلیے انتقال خون نہ صرف جائز ہے؛ بلکہ واجب ہے۔ *جسے* فقہائے امت نے بایں الفاظ تعبیر کیا ہے کہ "بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت” خون لگایا جا سکتا ہے۔*اب سوچیے!* جب جان بچانے کےلیے مردار کھایا جا سکتا ہے، خون پیا جا سکتا ہے، بلکہ نجس العین اور خبیث النفس جانور سُور تک کھایا جا سکتا ہے، تو پھر انسانی جان بچانے کےلیے خون کیوں نہیں لگایا جا سکتا؟!!*قارئین!* یہاں ہم یہ بھی ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ بعض لوگ کسی مسئلے کے بارے میں ایک آیت یا کسی روایت کو پکڑ لیتے ہیں، اور اس کا کما حقہ مکمل مطالعہ کیے بغیر، اس کی فقہی گہرائیوں تک پہنچے بغیر، اس میں معاشرتی و معاصرتی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر،،،،،، اپنی خواہشات کی بنیاد پر فتوے پہ ٹھاہ فتوی لگائے جاتے ہیں!؟ اور اپنے علاوہ باقی سب کو کم علم اور بیوقوف سمجھا جاتا ہے!؟ *بلکہ* اس پر مستزاد کہ اپنے اس فتوے اور رائے کو دوسروں پر جبراً مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ جیسا کہ مذکورہ آیت مبارکہ سے اپنی مرضی کا مفہوم نکال کر بار بار سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ گروپس میں انتقال خون کے مسئلے کو اچھالا جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے، کیوں؟؟؟*یاد رکھیے!* جب تک کسی حکم کی دلیل اور جس پر وہ حکم لگایا جا رہا ہے، اس چیز کے ما بین صحیح ربط و مطابقت موجود نہ ہو تو وہ حکم درست اور قابل حجت نہیں ہوتا۔ اور اس ربط کا اِدراک اہل علم کے علاوہ کسی کو نہیں ہو سکتا۔ مذکورہ مسئلے میں بھی یہی صورت حال ہے۔ *یہاں یہ بات* بھی ذہن نشیں رہے کہ آیات میں جو حرام چیزیں مذکور ہیں ان کے حوالے سے اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی بندہ یہ محسوس کرے کہ اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ یعنی اس کو از خود محسوس ہو رہا ہو کہ بُھوک کی وجہ سے وہ مرنے کے قریب جا چکا ہے، تو وہ اپنی جان بچانے کےلیے ان حرام کردہ چیزوں میں سے جو بھی میسر ہو "حسب ضرورت اور بقدر ضرورت” استعمال کر سکتا ہے۔ *جبکہ* خون کے معاملے میں جہاں ان آیات کے آخری کلمات بحالت مجبوری اس کے کھانے یا لگانے کا قطعی جواز پیش کرتے ہیں، وہاں اسے یہ بات بھی مزید سپورٹ کرتی ہے کہ جب کوئی اتھینٹک ڈاکٹر یا ایکسپرٹ پینل اس بات کو کنفرم کر دے کہ اس انسان کی جان خطرے میں ہے اور اسے خون دے کر ہی بچایا جا سکتا ہے، تو خون لگانا واجب ہو جاتا ہے۔ *مطلب* کہ جب بندے کو از خود موت محسوس ہو رہی ہو تو وہ حرام چیزوں کو استعمال کر سکتا ہے۔ اور جب موت کا وقوع ایکسپرٹس کی طرف سے کنفرم بتایا جا رہا ہو، وہاں تو بِالاولیٰ خون لگا کر جان بچانا ضروی ہو جاتا ہے۔ *مگر افسوس صد افسوس* کہ جہاں انسان کو از خود موت محسوس ہو رہی ہو (خواہ وہ درحقیت کچھ وقت کھائے بغیر مزید زندہ رہ سکتا ہو) وہاں کہتے ہیں جی ٹھیک ہے۔ یہ حالت مجبوری ہے۔ اور اس میں حرام کھایا جا سکتا ہے۔ اور جہاں اتھینٹک ٹیسٹوں اور ایکسپرٹس ڈاکٹرز کی ایڈوائس کے بعد خون لگانا ضروری بتایا جائے، وہاں کہتے ہیں ناجائز ہے!!!*یہاں* ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ انسانی جان بچانے کےلیے کھانے کے اعتبار سے بندے کو کوئی بھی حرام چیز مل سکتی ہے مثلا: 1مردار کا گوشت اور مردار کی کئی صورتیں ہیں۔ 2غیر اللہ کے نام پر کوئی چیز، وہ چیزیں بھی کئی اقسام میں پائی جاتی ہیں۔ 3حتی کہ خنزیر تک کھایا جا سکتا ہے، جس سے بڑھ کر کوئی نجس و حرام چیز نہیں ہے۔ *یعنی* ان تین چیزوں کی اگر تفصیلات میں جائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ بیسیوں اقسام و تعداد میں مل سکتی ہیں۔ *الغرض:* ایک حرام چیز نہیں تو دوسری، دوسری نہیں تو تیسری، تیسری نہیں تو چوتھی چیز جان بچانے کےلیے کھائی جا سکتی ہے۔*لیکن* انسانی خون ایک ایسی نایاب و انمول چیز ہے کہ جب انسان کو اس کی ضرورت پڑ جائے، تو پھر خون کے علاوہ کوئی اور چیز جان بچانے کےلیے کارآمد ثابت نہیں ہوتی۔ اور خون بھی صرف کسی انسان کا ہی دوسرے انسان کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ (وہ بھی صرف اور صرف بلڈ گروپ میچنگ کے بعد) کسی حیوان یا پرندے کا خون انسان کو قطعاً نہیں لگایا جا سکتا۔*سو ایسی مجبوری* میں اگر یہ بے بنیاد فتوی عام کر دیا جائے کہ انتقالِ خون حرام ہے، تو آپ بتائیے! اس بھیانک فتوے کے کِس قدر مہلک اور بدترین اثرات واقع ہوں گے!!! (جاری ہے)



















