چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جنوری 19, 2026 7:53 شام

کیا انتقال خون جائز ہے؟* قسط نمبر2*تحریر* ڈاکٹر فیض احمد بھٹی(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

*کیا انتقال خون جائز ہے؟* قسط نمبر2*تحریر* ڈاکٹر فیض احمد بھٹی(فاضل مدینہ یونیورسٹی)

انتقالِ خون کے حوالے سے عموما یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ "چونکہ انسانی خُون شرعاً حرام ہے، اس لیے اس کا استعمال بھی ناجائز ہے”۔ اس ضمن میں سب سے پہلے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ انسانی خون کی حرمت اپنی جگہ مسلم ہے، اور اس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔ تاہم اس حرمت کا مفہوم یہ نہیں کہ ہر حال میں اور ہر صورت میں خون سے متعلق ہر عمل ممنوع قرار دے دیا جائے۔ خون کی حرمت کا اصل مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کا ناحق خون نہ بہایا جائے، انسانی خون کو پینے کےلیے استعمال نہ کیا جائے، اسے کاروبار یا تجارت کا ذریعہ نہ بنایا جائے، اور نہ ہی اسے کبھی غیر اخلاقی مقاصد کےلیے استعمال کیا جائے۔ اس اعتبار سے انسانی خون کی حرمت آج بھی پوری شدت کے ساتھ قائم دائم ہے۔ بلکہ اس کے علاوہ انسانی خون کی مزید کئی اقسام اور ان کے تفصیلی احکام بھی موجود ہیں کہ وہ ہر اعتبار سے حرام ہیں۔ کالم کی طوالت کے پیش نظر ہم یہاں ان کا ذکر نہیں کر رہے۔ لیکن زیرِ بحث مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی انسان کی جان خطرے میں ہو اور ماہر ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق خون دیے بغیر اس کی جان بچانا ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں "بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت” انتقال خون یعنی خون لگانا نہ صرف جائز ہے؛ بلکہ فرض ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا: (ومن احیاھا فکانما احيى الناس جميعا) ترجمہ: جس نے کسی ایک (انسان) کی جان بچائی گویا اس نے پوری کائنات کی جان بچائی۔ اور بلڈ ڈونیشن کسی حاجتمند مریض کی جان بچانے میں اہم ترین کردار کا حامل ہے۔ بلکہ ایک اور آیت میں تو نہایت ہی واضح انداز میں فرمایا کہ: "تمہارے لیے حرام چیزوں کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے، تاہم اگر مجبوراً تمہیں کچھ کرنا پڑے تو وہ جائز ہے۔ ((وقد فصل لكم ما حرم عليكم الا ما اضطررتم اليه)) سورۃ الانعام۔ لہذا ان آیات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت مجبوری میں کسی کی جان بچانے کےلیے خون دینا نہ صرف جائز ہے، بلکہ فرض کے درجے پہ ہے۔ویسے بھی جانوروں کے خون اور انسانی خون میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ انسان کو انسان کے علاوہ آج تک کسی دوسرے جاندار کا خون لگایا ہی نہیں جا سکا۔ اگر تجرباتی طور پہ کبھی لگایا بھی گیا ہے، تو نتیجہ نقصان کی صورت میں ہی نکلا ہے۔ اس سے یہ جانی نقصان کا ہی باعث بنا ہے۔ اس لیے انسان کو صرف انسان ہی کا خون منتقل ہوتا ہے۔ اس میں بھی میرے اللہ کی عظمت اور حکمت پنہاں ہے کہ انسانی جان بچانے کے لیے انسان ہی کو سبب بنایا گیا ہے۔یاد رکھیں! قرآن و حدیث کی نصوص کی روشنی میں چند مسلمہ فقہی اصولوں کے مطابق اسلام میں ہر وہ چیز دائرہ حرمت میں شامل ہے، جس سے کسی انسان یا سماج کو ضرر پہنچے، اور ہر وہ چیز دائرہ حِلت میں شامل ہے جو کسی انسان یا سماج کی بہبود کا باعث بنے۔ شریعت کے سارے احکام کا محور و مرکز "جلبِ منفعت اور دفعِ مضرت” ہے۔ کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دینے میں شریعت کا یہی ضابطہ کار فرما ہے۔ انتقال خون کی افادیت کے ضمن میں اطبا کہتے ہیں کہ یہ نہ صرف کسی کی جان بچانے والا عمل ہے؛ بلکہ یہ خون دینے والے کی ذہنی صحت بہتر کرتا، اس کے دل کی بیماری کا خطرہ کم کرتا اور خون کے نئے خلیوں کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔ انتقالِ خون کے وقت ٹیسٹ کرنے پر صحت کے دیگر مسائل کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ کوئی کم نظر انسان ہی مذکورہ فوائد کو نظر انداز کرکے اسے حرام قرار دے سکتا ہے۔ پس اس ضابطے کی رو سے کسی مریض، زخمی یا معذور انسان کو خون عطیہ کرنا نہ صرف دفعِ مضرت کا سبب ہے؛ بلکہ خون دینے والے کےلیے بھی یہ ثواب و صحت کے لحاظ سے سراسر جلبِ منفعت ہے۔ اسلام کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ کیا یہ محض روایات کے گرد گھومتا ہے! نہیں، یہ روایت اور درایت دونوں کا خوبصورت امتزاج لیے ہوئے ہے۔ اس نے ماضی کے تقاضے بھی احسن انداز سے نبھائے اور حال و مستقبل کے مطالبات بھی اس کے پیشِ نگاہ ہوتے ہیں۔انتقال خون پر مزید تفصیلات کی طرف جانے سے پہلے اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ انسانی جسم میں اللہ تعالیٰ نے کئی قسم کے اعضاء و مواد پىدا کر رکھے ہیں۔ کچھ اعضاء ایسے ہىں، جن کے کاٹنے اور نکالنے سے انسانی جسم کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا؛ بلکہ فائدہ ہی ہوتا ہے:نمبر1جیسے بال اور ناخن، لہذا ان کے کاٹنے کا شرعاً حکم دیا گیا ہے۔ بلکہ ایک حد پر جا کر ان کا کاٹنا ضروری ہو جاتا ہے۔نمبر2 وہ اعضاء یا مواد کہ جن کے نکالنے کےلیے کوئی آپریشن نہیں کرنا پڑتا اور کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔ جیسے دودھ، جو بدنِ انسانی سے بغیر کسی کاٹ چھانٹ کے نکلتا اور دوسرے انسانی جسم کا جزو بن جاتا ہے اور شریعتِ اسلام نے بچے کی ضرورت کے پیش نظر انسانی دودھ ہی کو اس کی غذا قرار دیا ہے۔ اور ماں پر اپنے بچوں کو دودھ پلانا واجب کیا ہے، جب تک وہ بچوں کے باپ کے نکاح میں رہے۔ جبکہ طلاق کے بعد ماں کو دودھ پلانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا؛ کیونکہ بچوں کا رزق مہیا کرنا باپ کی ذمے داری ہے۔ لہذا وہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے یا ان کی ماں ہی کو معاوضہ دے کر دودھ پلوائے قرآن کریم میں اس کی واضح تصریح موجود ہے (( فَانْ ارْضَعْنَ لَكُمْ فَاتُوْهُنَّ اجُوْرَهُنَّ))۔ ترجمہ: اگر تمہاری مطلقہ بیوی تمہارے بچوں کو دودھ پلائے تو اس کو اجرت و معاوضہ دے دو۔ خلاصہ یہ ہے کہ دودھ جزو انسانی ہونے کے باوجود بوجہ ضرورت اس کے استعمال کی اجازت بچوں کےلیے دی گئی ہے۔نمبر3 کچھ اعضاء وہ ہیں جو دو دو ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں: ایک نوع وہ ہے کہ ایک ہی کافی شافی ہوتا ہے اور دوسرا عضو زائد ہوا کرتا ہے۔ اور ضرورت کے وقت اس کو کسی دوسرے انسان کےلیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے گردے۔ ایک گردہ بھی پورا کام سرانجام دیتا ہے جبکہ دوسرا گردہ فاضل ہوتا ہے۔ لہذا بوقت ضرورت، بقدر ضرورت، بحالت مجبوری دوسرے انسان کو خاص شرائط کے بعد ایک گردہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔ دوسری نوع وہ اعضاء ہیں کہ دونوں سے بیک وقت کام لیا جاتا ہے۔ جبکہ ایک عضو کی صورت میں انسان میں واضح کمی اور کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے آنکھیں ،کان اور ہاتھ پاوں وغیرہ۔ ان اعضاء کا کسی کو ہبہ کرنا جائز نہیں۔نمبر4 وہ عضو جو ہوتا تو ایک ہی ہے مگر اس کا کچھ حصہ اگر کسی حاجت مند کو دے دیا جائے، تو ڈونر کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ جیسے جگر ہے۔رہی بات خون کی، تو خون بھی دودھ کی قبیل سے ہے کہ اس کی ایک مناسب مقدار نکالنے سے جسم پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا ہے؛ بلکہ آج کی تحقیق نے خون کی ایک خاص مقدار کو نکالنا صحت کےلیے مفید قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بتا چکے ہیں۔ اور پھر اس کو نکالنے کےلیے کسی خاص آپریشن کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ انجکشن کے ذریعہ خون نکالا اور دوسرے کے بدن میں ڈالا جاتا ہے۔ اسی لیے فقہائے امت خون کو اس لحاظ سے دودھ کے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ جس طرح شریعت نے عورت کے دودھ کو جزوِ انسانی ہونے کے باوجود ضرورت کی بنا پر بچوں کے لیے جائز کر دیا ہے۔ اسی طرح ضرورت کی بنا پر علی ھذا القیاس خون دینا بھی جائز ہے۔بخاری شریف کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "اصحاب عرینہ” کو دودھ میں اونٹ کا پیشاب ملا کر پینے کا حکم دیا۔ اسی طرح حدیث کی کتابوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ ایک صحابی حضرت عرفجہ کی ناک خراب ہو گئی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت مرحمت فرمائی کی کہ وہ سونے کی ناک لگوا لیں، حالانکہ سونا مردوں کے لیے حرام ہے۔ سو معلوم ہوا کہ بعض حرام چیزوں کی "بوقت ضرورت، بقدر ضرورت” استعمال کی اجازت ہے۔ویسے تو شرعی نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خون کی خرید و فروخت جائز نہیں۔ تاہم اس سلسلے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر بلا قیمت خون نہ ملے، تو قیمت دے کر خریدنا جائز ہے۔جمہور معاصر علمائے عرب، علمائے دیوبند، علمائے بریلویہ، علمائے اہلحدیث اور علمائے شیعہ کا یہ موقف ہے: "کہ کسی مریض کو خون دینا جائز ہے، بشرطیکہ کوئی ماہر ڈاکٹر یہ رائے ظاہر کرے کہ اگر مریض کو خون نہ دیا گیا، تو مریض کی جان بچنی مشکل ہے۔ یا وہ یہ کہے: کہ اگرچہ مریض کی ہلاکت کا فوری خطرہ نہیں ہے، مگر خون دیے بغیر صحتیابی کا امکان نہیں ہے”۔ان کا مزید یہ بھی کہنا ہے: کہ "خون کی بیع تو جائز نہیں، لیکن جن شرائط کے ساتھ مریض کو خون دینا جائز قرار دیا گیا ہے، ان حالات میں اگر کسی کو خون بلا قیمت نہ ملے، تو اس کےلیے قیمت دے کر یا خون کے بدلے خون دے کر مریض کےلیے خون حاصل کرنا جائز ہے” (جاری ہے)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں