
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار)ضلع جہلم میں سب سے زیادہ متحرک محکمہ پنجاب فوڈ ہے زمینی حقائق کے مطابق مروجہ قانون کے تحت کاروائی کر کے سب سے زیادہ جرمانے کی رقم حاصل کرتا ہے مشاہدے میں ایا ہے کہ ناجائز کاروبار کرنے والے اج بھی اسی انداز میں کاروبار کر رہے ہیں روزانہ ضلع جہلم میں ناقص دودھ کو چیک کیا جاتا ہے اور ہزاروں لیٹر دودھ کو فوری پھینک دیا جاتا ہے گھی/ تیل باورچی خانہ کی اشیاء کو چیک کیا جاتا ہے لاکھوں روپے قانون کے مطابق جرمانہ بھی کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ہر روز اپ کو کھانے پینے کی چیزیں ملاوٹ شدہ ملیں گی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟مارکیٹ میں تھوک کا کاروبار کرنے والے ناقص اشیاء دکاندار کو دے کر وعدہ کرتے ہیں کے جرمانے کی رقم ہم ادا کریں گے اپ روٹین میں ناقص اشیاء فروخت کریں اس میں اپ کو منافع زیادہ ہوگا درج بالا حقائق کے پیش نظر اشیاء خردنی ملاوٹ شدہ ملتی ہیں ۔۔اس پر کنٹرول کرنے کے لیے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو مجبورا ایف ائی ار درج کروانا ہوگی نیز تھوک کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی بڑا قدم اٹھانا ہوگا تاکہ اس بددیانتی پر مکمل کنٹرول کیا جا سکے ۔



















