چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 7, 2026 7:07 صبح

جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار)محکمہ پنجاب فوڈ کی ملاوٹ کے خلاف کاروائیاں بے اثر،ملاوٹ شدہ کاروبار مسلسل جاری تھوک کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی بڑا قدم اٹھانا ہوگا

جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار)ضلع جہلم میں سب سے زیادہ متحرک محکمہ پنجاب فوڈ ہے زمینی حقائق کے مطابق مروجہ قانون کے تحت کاروائی کر کے سب سے زیادہ جرمانے کی رقم حاصل کرتا ہے مشاہدے میں ایا ہے کہ ناجائز کاروبار کرنے والے اج بھی اسی انداز میں کاروبار کر رہے ہیں روزانہ ضلع جہلم میں ناقص دودھ کو چیک کیا جاتا ہے اور ہزاروں لیٹر دودھ کو فوری پھینک دیا جاتا ہے گھی/ تیل باورچی خانہ کی اشیاء کو چیک کیا جاتا ہے لاکھوں روپے قانون کے مطابق جرمانہ بھی کیا جاتا ہے اس کے علاوہ ہر روز اپ کو کھانے پینے کی چیزیں ملاوٹ شدہ ملیں گی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟مارکیٹ میں تھوک کا کاروبار کرنے والے ناقص اشیاء دکاندار کو دے کر وعدہ کرتے ہیں کے جرمانے کی رقم ہم ادا کریں گے اپ روٹین میں ناقص اشیاء فروخت کریں اس میں اپ کو منافع زیادہ ہوگا درج بالا حقائق کے پیش نظر اشیاء خردنی ملاوٹ شدہ ملتی ہیں ۔۔اس پر کنٹرول کرنے کے لیے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو مجبورا ایف ائی ار درج کروانا ہوگی نیز تھوک کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی بڑا قدم اٹھانا ہوگا تاکہ اس بددیانتی پر مکمل کنٹرول کیا جا سکے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی

تازہ ترین خبریں

جہلم:DHQ ہسپتال جہلم ، چلڈرن وارڈ میں 35 بیڈز پر 70 بچے اور ساتھ 70 مائیں ، بیڈز کی تعداد بڑھائی جائے ، عوامی حلقے ، اس گرمی اور حبس میں ائیرکنڈیشنر 4 سے 5 گھنٹے چلایا جاتا ہے پھر 6گھنٹون کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ، مائیں ، وارڈ میں پنکھوں کی ہوا نہ ہونے کے برابر ہے ستم یہ کہ میرے بیڈ پر پنکھا ہی نہیں ،میں ساری رات ہاتھ والے پنکھے سے اپنے بچے کو ہوا دیتی ہوں ، ایک ماں کی دہائی