چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

جنوری 19, 2026 7:07 شام

بچے تجسس اور ہم. تحریر ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ۔۔ دینہ

بچے تجسس اور ہم

ڈاکٹر ملک عدیل افتخار اعوان چائلڈ سپیشلسٹ

بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔وہ جیسا محسوس کرتے ہیں اس کا اظہار بغیر کسی جھجک کے کردیتے ہیں اور بعض اوقات ان کی معصوم شرارتیں دیکھ کر انسان قہقہے مارنے پر مجبورہوجاتاہے۔بچوں کی سب سے بہترین عادت تجسس ہے۔ان کی زندگی میں اکثر چیزیں نئی واقع ہورہی ہوتی ہیں اس لیے وہ بھرپور حیرت کے ساتھ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ ہر چیز کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں اور بعض دفعہ تو ایک ہی سوال دہراتے رہتے ہیں۔آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ بچے تھے تب زندگی دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ بہت آہستہ بھی گزررہی تھی لیکن جیسے جیسے آپ بڑے ہوتے گئے، ویسے ویسے زندگی کی رفتار بھی بڑھتی گئی اور آج آپ دیکھیں تو ہر شخص وقت کی تنگ دامنی کا شکوہ کرتا نظرآتاہے۔بات دراصل یہ ہے کہ وقت کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آیا۔بس ایک چیز کا فرق آیا ہے۔بچپن میں آپ کے اندر حیرت تھی، تجسس تھا اور ہر چیز کو جاننے اور سمجھنے کی خواہش تھی جو کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی گئی۔چنانچہ آج ہوا میں اُڑتے جہاز یاپتنگ میں آپ زیادہ دل چسپی نہیں لیتے۔درخت پر بیٹھے پرندے آپ کو اپنی طرف راغب نہیں کرتے اور سمندر میں تیرتی کشتیاں بھی آپ کو کچھ زیادہ متاثر نہیں کرتی۔آپ جلدی جلدی نئی چیزوں کی طرف بڑھتے ہیں اور اس وجہ سے آپ کو زندگی کی رفتار کافی تیز لگتی ہے۔ہمارے معاشرے کے اکثر لوگ تجسس سے محروم ہیں۔آج آ پ کسی شخص کے سامنے کوئی نئی بات کریں تو وہ حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے منہ بنالیتاہے یاپھر کہتاہے، ہاں مجھے پتا ہے۔آپ کسی کوکوئی حیرت انگیز بات بتائیں تووہ جواب دے گا: ’’سانوں کی‘‘ (ہمیںکیا)‘‘یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ہمارااجتماعی رویہ ہے اور اس رویے کااظہار آپ کو اکثر مقامات پر ملے گا۔اسی وجہ سے ہمار ی قوم اپنے فرائض کی ذمہ داری نہیں اٹھاتی۔ان الفاظ کے ذریعے ہم اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم اپنی آسانی کے لیے اپنا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈال دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ہر وہ انسان جس میں بچوں جیسا تجسس ہو تو وہ زندگی سے بھرپور ہوتاہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ متجسس انسان دوسروں کی بہ نسبت زیادہ خوش اور مطمئن ہوتاہے۔ایسے فرد میں پریشانی، تنائو اور فکریں کم ہوتی ہیں۔ایک اور تحقیق کے مطابق تجسس والا انسان زندگی میں زیادہ کامیابیاں حاصل کرتاہے۔کیوں کہ وہ مسلسل جاننے کی کوشش کرتاہے اور اس عادت کی وجہ سے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتاہے۔تجسس والاانسان نئے لوگوں سے ملنا پسند کرتاہے۔ یہ تعلق اس کے اندر رحم دلی اور ہم دردی پیدا کرتا ہے اور وہ معاشرے کے تمام طبقات کو دوسرے لوگوں سے زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے لگتاہے۔متجسس انسان کے تعلقات بھی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔مثال کے طورپر ایک ڈاکٹر جب بھرپور دل چسپی اور تجسس کے ساتھ اپنے مریض سے حال احوال پوچھتاہے تو اس سے مریض کو اپنائیت کا احساس ہوتاہے اور اس کا ڈاکٹر پر اعتمادبڑھتاہے جس سے دونوں کا رشتہ مضبوط بن جاتاہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں