
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).مقدس رمضان میں مومنین نیکیوں میں اضافہ کرتے ہیں اور رب کے حضور استغفار کرتے ہیں مقام افسوس پاکستان میں حالت اس کے برعکس ہے ضلع انتظامیہ و تحصیل انتظامیہ پرائس کنٹرول کرنے میں بظاہر مصروف رہی ہے جبکہ دکانداروں نے دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹا ہے کیلا 150 کے بجائے 300 روپے ۔۔۔امرود سو کے بجائے 250 روپے۔سیب 200 کے بجائے 400 روپے گوشت بکرا دو ہزار کے بجائے 2500 روپے جبکہ موٹا گوشت 900 کے بجائے 1400 روپے میں ملتا رہا ہے سلینڈر 3200 روپے کے بجائے 4500 روپے میں ملتا رہا ہے زمینی حقائق کے مطابق انتظامیہ 100 فیصد ناکام رہی ہے ان کے اسباب سے ہر شہری باخبر ہے پاکستانی معاشرہ پہلے ہی تباہ تھا اب تو انتہا ہو گئی ہے حکومت وقت کفایت شعاری کا درس دیتی ہے جبکہ حکومت کے شاہانہ اخراجات میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے سرکاری گاڑیوں کا بدریغ استعمال ہو رہا ہے موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ تمام اعلی سرکاری آفیسران نیز وزیروں کے الاؤنسز فوری ختم کیے جائیں مفت پٹرول کی رعایت ختم کی جائے بیرونی ملک دوروں کی پابندی ہونی چاہیے تب جا کر ہم حالات کا مقابلہ کر سکیں گے بصورت دیگر عوام حکمرانوں کا جینا محال کر دیگی




















