

جہلم ( جہلم نیوز رپورٹ)معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ مسلح حملہ اور نے اکیڈمی میں زبردستی گھسنے کی کوشش ۔پولیس کی روکنے کی کوشش حملہ اور نے فائرنگ شروع کر دی جس پر پولیس کی جوابی فائرنگ سے مسلح حملہ اور ہلاک ہو گیا ۔تا ہم محمد علی مرزا حملے میں محفوظ رہے جبکہ اس دوران ایک پولیس اہلکار زخمی.پولیس ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک نامعلوم مسلح شخص نے انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہاں تعینات سیکورٹی اہلکاروں نے جب اسے روکنے کی کوشش کی تو حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔پولیس کی کارروائی: موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے فوری پیشہ ورانہ ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ کانسٹیبل احسن کیانی نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گئے۔حملہ آور کا انجام: پولیس کی بھرپور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے حملہ آور کی لاش کو تحویل میں لے کر شناخت کا عمل شروع کر دیا ہے۔زخمی پولیس اہلکار کی حالتفائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے پولیس کانسٹیبل احسن کیانی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق احسن کیانی کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور انہیں بہترین طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔تحقیقات کا آغاز اور سیکورٹی کے سخت انتظاماتواقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور تحقیقاتی اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے۔ کرائم سین کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔تفتیش: پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ حملہ آور کا تعلق کس گروہ سے تھا اور اس کے مقاصد کیا تھے۔سیکورٹی میں اضافہ: واقعے کے بعد انجینئر محمد علی مرزا کی رہائش گاہ اور اکیڈمی کے گرد سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی



















