
ایسی نشست یا محفل جس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ یا دین کا ذکر نہ ہو ایسی محفل سے متعلق رو زآخرت سوال ہو گا اور پچھتائیں گے کہ کاش ہم ایسی محفل نہ کرتے۔اگر ایک محفل کے متعلق اتنی سخت وعید ہے تو ہماری زندگی کے شب و روز جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی یاد سے خالی ہیں اگر غور کریں تو سمجھ آئے گی کہ کتنے دین پر ہیں اور کتنے دین سے دور لایعنی اعمال میں وقت کا ضیاع کر رہے ہیں۔ہم اپنی ساری زندگی اصول تجویز پر گزار دیتے ہیں جبکہ دین اسلام اصول تفویض پر زندگی بسر کرنے کی راہنمائی عطا فرماتا ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے کمالات پر بھروسہ کریں گے اللہ کے تفویض کردہ اصولوں پر نہیں چلیں گے پھر برکت جاتی رہے گی۔اور آخرت میں ان تمام وسائل کا جواب دینا پڑے گا۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔دین اسلام ہر طرح کی راہنمائی فرماتا ہے کہ ذرائع آمدن کیسے ہونے چاہیے؟معاشی زندگی،معاشرتی زندگی،اپنے ذاتی وجود سے لے کر ہر ایک لمحے کے بارے راہنمائی ہے حتی کہ عبادات بھی حد سے زیادہ کرنے پر سوال ہو گا۔بندہ یہ اقرار کرے کہ جو کچھ ہے میرے اللہ کا ہے اور میرے حصے کا میرے اللہ کریم نے مجھے عطا فرمایا ہے۔اس طرح اللہ کریم نے جو تفویض فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے۔اور جو شیطان کا پیروکار ہو وہ بے سکون اور خوفزدہ رہے گا۔اس لیے کہ شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر دونو ں کا دشمن ہے۔جو بھی اس کی پیروی کرے گا وہ اللہ کے فضل سے دور ہوتا چلا جائے گا۔حق یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ڈرے پھر کسی کا ڈر نہیں رہتا اور اللہ سے ڈرنے سے مراد ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض ہو جائیں اسی کیفیت کو تقوی بھی کہتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائ



















