چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

ستمبر 11, 2026 5:59 شام
تازہ ترین خبریں

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی: اسلامی طاقت کی نئی مثلث* (امت مسلمہ کے زوال سے عروج کی جانب ایک پُرعزم سفر کا آغاز)*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*پاکستان، سعودی عرب اور ترکی: اسلامی طاقت کی نئی مثلث* (امت مسلمہ کے زوال سے عروج کی جانب ایک پُرعزم سفر کا آغاز)*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

جب کبھی اہل کفر نے اہل اسلام پہ غلبہ پایا، تو اس کی بڑی وجہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف تھا۔ آج اگر دنیا کے مختلف خطوں کے مسلمان کمزور ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا آپس میں اتفاق یا اتحاد نہیں ہے۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اور ہمارے اس باہمی انتشار کا فائدہ یورپ (یہود و نصاری) نے یوں اٹھایا کہ انہوں نے ہمارے عام سے اختلافات کو جنہیں باہمی افہام وتفہیم سے حل کیا جا سکتا تھا، بڑی شاطرانہ چال سے دشمنی میں بدلا اور پھر ہمیں ایک دوسرے سے ڈرا کر، الجھا کر خوب اپنا اسلحہ بیچا۔ پھر جانے انجانے میں اس اسلحے کو ہم نے اپنوں کے خلاف آزمایا، اپنے ہی مسلم بھائیوں کے خلاف استعمال کیا۔ یوں اغیار کی سازش سے مسلمان ہی مسلمان کے لہو کا پیاسا بن گیا۔اب حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والا معاہدہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم راہ راست پہ آ گئے ہیں، ہم زوال سے عروج کی جانب گامزن ہو گئے ہیں،،،،پاک ترکیہ سعودیہ معاہدہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ مسلم امہ کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہوئی ہے، وہ اگر ختم ہوئی تو اس معاہدے کا شمار اس ذلت کے خاتمے کے اولین نقوش میں ہو گا.چونکہ یہ سب کچھ معرکہ حق (بنیان مرصوص آپریشن) کے بعد ممکن ہو رہا ہے، تو آپ معرکہ حق کو اس معاہدے کا سب سے پہلا نقش قرار دے سکتے ہیں۔باوثوق ذرائع اور تفصیلات کے مطابق 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی دستاویز نہیں، بلکہ اس کے پیچھے تین مختلف نوعیت کی طاقتوں کا حسین و تقویم امتزاج نظر آتا ہے۔اس شراکت داری کو سمجھنے کےلیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی مختلف طاقتوں کے باہمی اشتراک سے ایک ناقابلِ شکست اور فاتح فوج کا تصور ابھرتا ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے اپنی اعلیٰ ٰعسکری صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ ایٹمی طاقت بھی ہے اور اپنی تجربہ کار فوجی افرادی قوت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان کی بری اور فضائی افواج کے پاس سابقہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف مسلسل کارروائیوں سے خاطر خواہ عملی تجربہ حاصل ہوا ہے۔ خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال، طویل دفاعی تجربہ اور بھارت کے خلاف مختلف نوعیت کی کئی جنگی کارروائیوں کا تجربہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم عسکری کردار قرار دیتا ہے۔ پاکستان کی ایک اور بڑی طاقت اس کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، چین، افغانستان، ایران اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع ہے۔ گویا یہ ملک ایک ایسے جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے، جو جنوبی ایشیا کو خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب لاتا ہے۔رہا سعودی عرب تو اس کی طاقت سرمایہ، توانائی اور حرمین شریفین کی روحانی اہمیت ہے۔ سعودی قیادت کے محافظ حرمین شریفین کے عظیم منصب کے تناظر میں یہ ملک تمام عالم اسلام میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی طاقت کا بنیادی میدان پاکستان سے مختلف ہے۔ سعودی عرب اپنی پٹرولیم مصنوعات کی وجہ سے دنیا کی اہم ترین توانائی معیشتوں میں شمار ہونے والی ایک بڑی معاشی طاقت ہے، جبکہ اس کے پاس بڑے مالی وسائل اور سرمایہ کاری کی غیر معمولی صلاحیت بھی موجود ہے۔ لیکن سعودی عرب کی اہمیت صرف تیل اور پیسے تک محدود نہیں؛ بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب کو دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایک منفرد روحانی اور اعلیٰ مذہبی مقام حاصل ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے، توانائی ہے، خلیج میں اہم جغرافیائی حیثیت ہے اور مسلم دنیا میں غیر معمولی مذہبی اثر و رسوخ ہے۔جبکہ ترکی کی طاقت پاکستان اور سعودی عرب سے مختلف اور بڑی دلچسپ ہے۔ ترکی گذشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت کو نمایاں طور پر ترقی دے چکا ہے۔ ڈرونز، دفاعی ٹیکنالوجی، بحری نظام اور دیگر فوجی سازوسامان کی تیاری اور برآمدات نے ترکی کو ایک اہم دفاعی صنعتی ملک بنا دیا ہے۔ ترکی کی دوسری بڑی طاقت اس کا جغرافیہ ہے۔ وہ یورپ اور ایشیا کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ اسود، بحیرہ روم اور مشرقِ وسطیٰ کے قریب اس کی پوزیشن اسے ایک غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ نیٹو کا رکن بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کے عالمی دفاعی اور سفارتی روابط کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ویسے بھی ترکی تاریخی طور پر خلافت عثمانی کا مرکز اور امت مسلمہ کی ایک شاندار طاقت پا پس منظر رکھتا ہے۔یوں تینوں ممالک کی طاقتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔پاکستان دفاعی طاقت دیتا ہے،سعودی عرب معاشی اور توانائی کی طاقت دیتا ہے اور ترکی ٹیکنالوجی و دفاعی صنعت کی طاقت دیتا ہے۔اگر یہ تینوں طاقتیں طویل المدت منصوبہ بندی، دفاعی صنعت، مشترکہ تربیت، ٹیکنالوجی اور معاشی تعاون میں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہتی ہیں، تو مکہ معاہدہ محض ایک سفارتی اعلان نہیں رہے گا، بلکہ خطے میں ایک نئے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔کویت اور مصر بھی اس معاہدے میں تقریباً شامل ہو چکے ہیں۔ جبکہ شام و قطر سمیت دیگر کئی مسلم ممالک بھی شمولیت کےلیے کمر باندھ رہے ہیں۔سچ پوچھیے! عالم اسلام کے مضبوط ترین اتحاد اور دفاع کے باب میں یہ بہت بڑا اقدام ہونے جا رہا ہے۔ جس کے نتائج بھی بہت دوررس ہوں گے۔ ان شاء اللہویسے بھی یہ وقت اب ایک دوسرے کو کمزور کرنے کا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔ مسلمان اگر اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و اخوت کا راستہ اختیار کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔لہذا اس معاہدے کی مضبوطی اور اسے عملی جامہ پہنانے کےلیے اخلاص کے ساتھ ساتھ مزید کاوش اور پختہ حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں کیونکہ اگرہم ممبر پر بیٹھ کر بیان کریں اور اپنا عمل اس سے مختلف ہو تو پھر اس تبلیغ کا اثر نہ ہو گا۔آج بھی مجاہدین جان اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اس کے بارے حکم ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے تو جو اللہ کا نبی اور رسول ہے اس کا مقام کیا ہوگا۔موت کے بھی درجے ہیں۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔

میر پور(آصف محمود چوہدری) میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں پیزا شوارما سینٹروں اور دیگر پکوان سینٹروں میں فروزن چکن ناقص چٹنیاں ٹومیٹو کیچپ اور دیگر چیزیں اکثر جگہ پر استعمال کی جانے لگی- عوام کی صحت سے کھیل کر اعلیٰ پکوان کے نام پر چند لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف جب کہ ناقص تیل گھی بھی استعمال کیے جانے لگا محکمہ فوڈز کے ذمہ داران نوٹس لیں عوامی مطالبہ

دینہ (نثار احمد مغل سے )فارابی فاؤنڈیشن ھائی سکول دینہ نے اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ھوئے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے نویں کلاس کی طالبہ طیبہ نور اورطلبہ میں محمد عبداللہ نے ضلع جہلم میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے تحصیل دینہ بھر میں دوسری پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سکول کے معیار کو بر قرار رکھا

نبوت رسالت کی عظیم الشان عمارت میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ اُس اینٹ کی مانند ہے جس نے اس عمارت کی تکمیل فرمائی اور ختم نبوت پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت با سعات پر اکثریت 9 ربیع الاول پر متفق ہے اور 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ داردنیا سے پردہ فرما گئے اس پر سب کا اتفاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین وحضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنس زیرِ صدارت و خصوصی خطاب:حضرت امیر عبدالقدیر اعوان دامت برکاتہم العالیہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان الحمدللہ! سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی ملک بھر میں بعثتِ رحمتِ عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ جاری ہے۔ فیصل أباد ۔ بہاولپور ۔ وہاڑی ۔ ڈیرہ نور ربانی کھر اور گوجرانوالہ میں کامیاب اجتماعات کے بعد ابان شاء اللہ 6 ستمبر بروز اتوار دن 11 بجےدارالعرفان منارہ تحصیل کلر کہار ضلع چکوال میں عظیم الشان بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے

میرپورمنگلا(آصف محمود چوہدری) منگلا ہیملٹ کا سرکاری بنیادی مرکز صحت علاقہ کے مریضوں کو کم وسائل میں بہترین سہولتیں مہیا کرنے لگا میڈیا میں نشاندہی کے بعد مخیر حضرات کے تعاون سے اور حکومتی فنڈ سے مرکز کی حالت بہتر سے بہتر ہونے لگی سٹاف بہترین طریقے سے مریضوں کو طبی سہولیات دینے میں مصروف

تازہ ترین خبریں

بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں کیونکہ اگرہم ممبر پر بیٹھ کر بیان کریں اور اپنا عمل اس سے مختلف ہو تو پھر اس تبلیغ کا اثر نہ ہو گا۔آج بھی مجاہدین جان اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اس کے بارے حکم ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے تو جو اللہ کا نبی اور رسول ہے اس کا مقام کیا ہوگا۔موت کے بھی درجے ہیں۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔

میر پور(آصف محمود چوہدری) میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں پیزا شوارما سینٹروں اور دیگر پکوان سینٹروں میں فروزن چکن ناقص چٹنیاں ٹومیٹو کیچپ اور دیگر چیزیں اکثر جگہ پر استعمال کی جانے لگی- عوام کی صحت سے کھیل کر اعلیٰ پکوان کے نام پر چند لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف جب کہ ناقص تیل گھی بھی استعمال کیے جانے لگا محکمہ فوڈز کے ذمہ داران نوٹس لیں عوامی مطالبہ

دینہ (نثار احمد مغل سے )فارابی فاؤنڈیشن ھائی سکول دینہ نے اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ھوئے راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے نویں کلاس کی طالبہ طیبہ نور اورطلبہ میں محمد عبداللہ نے ضلع جہلم میں نمایاں پوزیشن حاصل کر کے تحصیل دینہ بھر میں دوسری پوزیشن اور سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے سکول کے معیار کو بر قرار رکھا

نبوت رسالت کی عظیم الشان عمارت میں آپ ﷺ کی بعثت مبارکہ اُس اینٹ کی مانند ہے جس نے اس عمارت کی تکمیل فرمائی اور ختم نبوت پر اپنی مہر ثبت فرمائی۔اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں آپ ﷺ کی ولادت با سعات پر اکثریت 9 ربیع الاول پر متفق ہے اور 12 ربیع الاول کو آپ ﷺ داردنیا سے پردہ فرما گئے اس پر سب کا اتفاق ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا مرکز دارالعرفان منارہ میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین وحضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔