چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اکتوبر 16, 2026 11:28 شام

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔ انہوں نے کہا کہ سود نے آج معیشت کو اس قدر جکڑا ہوا ہے کہ سارے معاشرے سے پیسے کو صرف ایک طرف کھینچ کر جمع کیا جاتا ہے۔دنیا کے جو مقتدر حلقے ہوتے ہیں جب دنیا ہی ان کا مقصد ہو جاتا ہے پھر وہ ایسے نظام کو پسند کرتے ہیں جس سے ان کے پاس ہر طرف سے پیسہ آئے لیکن ان سے جائے نہیں۔انسانی وجود مٹی سے بنا ہے لیکن اسے جو حیات عطا فرمائی گئی وہ امر سے ہے۔اللہ کریم نے انسان کو عبادات کے لیے پیدا فرمایا لیکن اسے پابند نہیں فرمایا بلکہ اختیار دیا کہ چاہے تو شکر ادا کرے چاہے تو نا شکری کرے دونوں راستے کھول کر بیان فرما دئیے۔راہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے کتابیں نازل فرمائیں۔ارض و سماں کا وہ اکیلا خالق و مالک ہے انسان کو عارضی اختیار دیا ہے امانت کے طور پر اور فرمایا جو حدود و قیو د میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے مطابق زندگی بسر کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایمان کا یہ درجہ نصیب ہو کہ میرا اللہ مجھے ہر لمحہ دیکھ رہا ہے،سن رہا ہے تو بندہ کس کیفیت میں ہو گا اور اس کے شب و روز کیسے ہوں گے جب اسے یہ احساس ہو جائے کہ میں نے اللہ کے حضور اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔تو کیا جو کچھ ہم بول رہے ہیں بول سکتے ہیں جو کچھ ہم کر رہے ہیں کر سکتے ہیں۔اللہ کریم سب کو یہ حضوری کی کیفیت عطا فرمائے۔ یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت5،6 ستمبر کو ماہانہ اجتماع کے موقع پر بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اتوار دن گیارہ بجے حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوی ﷺ سے منورہ کیجیے دعوت عام ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا ۔

صاحب خرد اور عقل مند لوگ وہ ہیں جو کھڑے،بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔اس سے مراد ذکر خفی ہے جو قلب سے کیا جاتا ہے۔باطنی ذکر کا پہلو ہو گا تو ذکر کثیر ہوگا۔صوفیا ذکر کی تلقین پر فرماتے ہیں کہ تہجد کے وقت کا ذکر اور شام کے ذکر کی پابندی کریں۔یہ دو وقت کا ذکر دائمی ذکر تک لے جاتا ہے. امیر عبد القدیر اعوان

تازہ ترین خبریں