
آزاد کشمیر ناقص اور غیر معیاری ادویات کی منڈی بن گیا ذمہ دار خاموش
تحریر آصف محمود چوہدری
صحت بہت بڑی نعمت ہے اللہ پاک ہر کسی کو صحت عطا فرمائے امین صحت مند افراد اپنی زندگی بہترین طریقے سے گزارتے ہیں جن کو کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن جو لوگ کسی بیماری کا شکار ہوتے ہیں یا ان کی صحت خراب ہوتی ہے تو ان کو ڈاکٹر حکیم طبیب سے رابطہ کرنا پڑتا ہے اور ان کے مشورے سے ادویات کھانی پڑتی ہیں اس کے لیے کوئی ایلوپیتھک کوئی ہومیوپیتھک اور کوئی ہربل حکیم کی دیسی دوائی استعمال کرتا ہے ان سب ادویات کا اصل اور ایک نمبر ہونا نہایت ہی ضروری ہے ورنہ بیمار شخص کی صحت ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب ہوگی یا اس کو نقصان پہنچے گا آزاد کشمیر میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ایسے لگتا ہے کہ موجود نہیں اگر موجود ہے تو کہاں ہے؟؟ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا کام ہے کہ ناقص غیر معیاری اور دو نمبر ادویات کہ خاتمے کے لیے قانون پر مکمل عمل درامد کروائے اور ان کی سپلائی کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے لیکن افسوس ایسا عمل کہیں پر بھی نظر نہیں آتا میرے علم کے مطابق آزاد کشمیر میں صرف ایک ڈرگ ٹیسٹنگ لباٹری چتر پڑی میرپور میں قائم ہے جس کو بنے ہوئے بھی کئی سال کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن یہ یہ لباٹری مکمل طور پر فعال نہیں ہے صرف اس کے کچھ شعبے بہترین بلڈنگ موجود بہت سے شعبوں کا عملہ بھی موجود لیکن لیبارٹری سے متعلقہ مقاصد پورے نہیں ہو رہے اس وقت تین سے زید میڈیکل کالج بھی موجود ہیں اور اس ڈرگ ٹیسٹنگ لباٹری کے ساتھ بے نظیر شہید میڈیکل کالج بھی موجود ہے جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں طالب علم علم حاصل کر کے ڈاکٹر بن رہے ہیں میڈیکل کالج کے لیے بھی اس لیبارٹری کا مکمل فعال ہونا فائدے مند ہے اور معاون ہے لیکن افسوس اس کو مکمل طور پر فعال ہونے میں کوئی طاقت کار فرما ہے یا ڈرگ مافیا اس کو فعال نہیں ہونے دے رہا کیوں نہ کہ اگر یہ مکمل فعال ہو جائے تو ازاد کشمیر میں غیر معیاری ادویات سپلائی کرنے والوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور یہ والی لیبارٹری مکمل فعال ہونے پر آزاد کشمیر میں بہت سارا بجٹ بچ سکتا ہے جو کہ ہم پنجاب کی بڑی لبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانے پر خرچ کرتے ہیں دوسری جانب ناقص غیر معیاری ادویات سپلائی کرنے والوں نے آزاد کشمیر کو بہترین منڈی بنایا ہوا ہے کیوں نہ کہ ان کا ہر غیر معیاری ناقص ادویات بیچنے کا دھندہ یہاں پر عروج پر ہے کوئی ان کو رکاوٹ نہیں کچھ لوگ ڈرگ مافیا کا روپ دھار چکے ہیں جو اربوں روپیہ اس غیر قانونی کام کو بہترین کاروبار بنا کر کما رہے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ یہی ڈرگ مافیا اس ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کو مکمل فعال نہیں ہونے دے رہا میرپور کوٹلی ڈڈیال مظفراباد اور دیگر بڑے شہروں میں غیر معیاری ناقص ادویات بک رہی ہے اس دو نمبر کام میں ڈرگ مافیا کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی ملوث ہیں جنہوں نے ڈاکٹری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے پنجاب سرحد اور سندھ سے بہت ساری غیر قانونی غیر معیاری ناقص ادویات بیچنے والے اپنا سارا مال ادھر بھیج رہے ہیں ان کی سپلائی والی گاڑیاں بی ادھر پہنچ کر سپلائی کرتی ہیں جبکہ بیرون شہروں سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے بھی ان ادویات کی سپلائی ازاد کشمیر ہو رہی ہے جس کو روکنے کے مناسب اقدامات نہیں دوسری جانب چیف ڈرگ انسپیکٹر یا محکمے کے ہیلتھ سیکرٹری اس طرف خاص توجہ نہیں دیتے جب تک بڑے ذمہ دار لوگ اس دو نمبر دھندے کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کریں گے یہ کام یوں ہی چلتا رہے گا اور یہ لوگ عوام کی صحت سے کھیلتے رہیں گے دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا مکمل فعال ہونا بھی بہت ضروری ہے وزیراعظم چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ہیلتھ اس جانب خصوصی توجہ دے کر سب سے پہلے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میرپور کو مکمل فعال کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کریں اور غیر معیاری ناقص ادویات سپلائی کرنے والوں کے لیے بی مناسب اقدامات کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ عوام کو طبی سہولیات اور ادویات معیاری میسر ہو سکیں غیر معیاری اور ناقص ادویات کا داخلہ آزاد کشمیر میں مکمل طور پر بند ہو سکے اس ڈرگ ٹیسٹنگ لباٹری کو مکمل فعال کرنے کی صورت میں ادویات کے مکمل نمونے لے کر رپورٹ مل سکتی ہے کہ کون سی ادویات غیر معیاری اور ناقص ہیں اس لیے اس کو فعال کرنا بہت ضروری ہے مکمل فعال ہونے کی صورت سے مکمل فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور عوام کی صحت برقرار رہ سکے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ صحت بہت بڑی نعمت ہے اللہ پاک سب کو صحت عطا کرے امین



















