چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اگست 27, 2026 12:53 صبح
تازہ ترین خبریں

سالِ نو…..تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان

سالِ نوتحریر: امیر عبدالقدیر اعوان ”

سال نو“ فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد نیا سال ہے۔ایک سال کے اختتام پر آنے والا اگلاسال۔حیات انسانی میں انضباط کے لیے تقسیمِ اوقات لازم تھی اور اللہ کریم نے حضرت آدم ؑ کے زمین پر اترنے سے پہلے ہی اس کا اہتمام فرما دیا۔ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاء وَالْقَمَرَ نُوراً وَقَدَّرَہُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُواْ عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّہُ ذَلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونo(سورۃ یونس:5) ”وہی اللہ تو ہے جس نے سورج کو روشن کیا اور چاند کو نورانی (چمکنے والا) بنایا اور اُس (کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرسکو۔اللہ نے اِن سب کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ یہ دلائل عقل مندوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں“۔ تاریخِ انسانی میں برسوں کا شمار بھی اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ خود تاریخ۔ابتداء یہ شمار پھلوں اور پھولوں کے موسموں سے ہوا۔ باقاعدہ کھیتی باڑی شروع ہوئی تو فصلوں کے پکنے سے کیا جانے لگا۔حضرت ادریس،ؑ اللہ کے تیسرے نبی ؑ،نے سال کو مہینوں میں تقسیم کیا۔ان ہی کی قوم، بابل، نے شب و روز کی تقسیم گھنٹوں میں کی بعد میں تقسیم در تقسیم کایہ عمل منٹوں کو سیکنڈز تک لے گیا۔تاریخِ عالم کا مطالعہ دنیا میں کم وبیش پندرہ تقاویم(Calenders) کا پتہ دیتا ہے۔جن میں وقت کے ساتھ مناسب ترامیم ہوتی رہیں۔مورخین کے مطابق ان کا اجراء عموماًتین بنیادوں پہ عمل میں آیا۔چاند کی گردش کو بنیاد بنانے پر قمری،سورج کو معیار بنانے پہ شمسی اور ستاروں کی بنیاد پر رائج ہونے والا نجومی کہلایا۔شمسی اور قمری مہینوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شمسی مہینوں کی نسبت قمری مہینوں میں موسم بدلتا رہتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عبادات جو قمری مہینوں میں متعین فرما دیا۔ورنہ اگر دنیاوی امور کا حساب کتاب،دفتری اوقات کو شمسی مہینوں کے مطابق رکھ لیا جائے تو جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَاء وَالْقَمَرَ نُوراًکے مطابق یہ غلط نہیں ہے۔وقت ایک ایسی چیز ہے جسے ناپا نہیں جاسکتا۔تحقیق Nano Second (ایک سیکنڈ کاایک ارب واں حصہ)سے Plank Time (روشنی کے اپنے ممکنہ حد تک قریب ترین حصے تک پہنچنے کی رفتار)تک پہنچ کربھی حتمی قرار نہیں پائی۔اسی طرح وقت کی طوالت کی بھی کوئی حد نہیں۔قرآن پاک میں گناہگاروں کے دوزخ میں ٹھہرائے جانے کے بارے ارشاد ہے۔ ابِثِیْنَ فِیْہَا أَحْقَاباًo(سورۃ النبا:(23 ”اس میں وہ مدتوں پڑھے رہیں گے۔“ ٍیعنی وہ کئی حقبوں تک دوزخ میں رہیں گے۔ حضرت علی ؓ کی ایک روایت کے مطابق ایک حقبہ دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا بنتا ہے اور کئی حقبوں تک رہنے کے ضمن میں حقبوں کی تعداد رقم نہیں۔ گویا وقت کی طوالت کی پیمائش بھی ممکن نہیں۔قارئینِ کرام! بات گھڑی پل کی ہو یاسالوں صدیوں کی،لحظہ کی ہویا حقبوں کی،بات تو یہ ہے کہ ہم نے اس وقت میں کیا کھویا؟ کیا پایا؟اس دارلعمل کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس کے ایک ایک پل پہ اخروی حیات کی جزا وسزا کاانحصار ہے۔اللہ رب العزت نے موت کے وقت کوانسان سے مخفی رکھ کے اسے مزید بیش قیمت بنا دیاہے۔ اس وقت،اس حیات میں ہمیں جو وقت میسر ہے اگر ہم اس کی قدروقیمت کا احساس کرلیں تو یہ احساس ہمیں نہ صرف نیکی پرابھارے گا بلکہ ہمارے ایک ایک عمل کو مزید نکھارے گا۔ جنہیں اس دارالعمل میں ملنے والے وقت کی اہمیت کا اندازہ ہوا انہوں نے لمبی زندگی کی دعائیں مانگیں کہ اس دنیا میں روح،بدن کی مکلف ہے اور یہی ہیں وہ قیمتی لمحات جن میں کی جانے والی عبادت وریاضت انہیں قرب الہٰی سے نواز سکتی ہے۔لہٰذا اس حیاتِ مستعار کا گزر جانے والا سال،پورے تین سو پینسٹھ دن ختم ہونے پہ جشن منانے کی نہیں،خود احتسابی کی ضرورت ہے کہ ہم نے حیاتِ جادواں کے لئے کیا پایا؟ نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھلنے والے نامۂ اعمال میں کیا لکھوایا؟ہمارے قدم جنت___جودیدار باری کی جگہ ہے،اللہ کا انعام ہے،سردار انبیاء،رسل وانبیاء ؑ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،شہدا،صوفیاء،اولیاء اللہ کی ابدی رہائش گاہ ہے____کی طرف بڑھے یا خدانخواستہ!خدانخواستہ!! اس بڑھکتی ہوئی آگ کی طرف جو دن میں ستر مرتبہ خود سے پناہ مانگتی ہے؟عمرِ رواں،سیل رواں کی طرح بڑھتی جارہی ہے،گزرتی جارہی ہے۔یہ کہاں ٹھہر جائے! کوئی نہیں جانتا،گزرتا وقت تو اپنے ہر سیکنڈپہ دستک دیتے ہوئے تنبیہ کئے جارہا ہے ضرورت اِس پہ کان دھرنے کی ہے۔ٖغافل تجھے گھڑیال دیتا ہے منادیگردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

ماہ ربیع الاول کی خوشیاں ضرور منائیں لیکن اس کا طریقہ اور سلیقہ وہ اپنایا جائے جو آپ ﷺ نے فرمایا اور سمجھایا۔اس اظہار محبت میں حلال حرام نہیں ہو سکتا اور حرام حلال نہیں ہو سکتا۔اپنی زندگیوں میں سے شرک کو نکال دیں اور اپنی تمام امیدیں اللہ کریم سے وابستہ رکھیں۔اپنے والدین کے سامنے سرنگوں رہیں اور افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ سنانواں کوٹ ادو میں دڑہ ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

دینہ( ادریس چودھری)ایس ایچ او دینہ کی اپنے اہلکاروں کے ساتھ غنڈہ گردی۔ رات کے وقت سڑک کنارے درجنوں موٹر سائیکلوں کے ٹائروں پر لوہے کے سوہے چبو کر پنکچر کر ڈالا۔ میڈیا کے سوال پر کہ کس نے آپ کو موٹر سائیکل پنکچر کرنے کی اجازت دی ھے، انتہائی متکبرانہ لہجے میں بولا آپ کو عزت راس نہیں ۔ شہری موثر سائیکلوں کو پنکچر لگوانے کے لیے ذلیل و خوار

ماہ ربیع الاول تجدید عہد کا دن ہے اس دن کو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق گزاریں گے۔آپ ﷺ سے اظہار محبت ہماری زندگی کا اثاثہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت ہی ہمیں زندگی سے آشنائی عطا کرتی ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں اپنی جان نچھاور کرنے کو کامیابی اور فخر سمجھا جاتاہے۔ سیماب ایسی موت کی ہے جستجو مجھے،لپٹا ہو جس میں تہہ بہ تہہ محبوب کا وصال امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا بہاولپور میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب

دوسری ملک گیر کانفرنس سے پہلے ورکشاپ کا انعقادپروفیسر ساجد مقبول آڈیٹوریم یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور میں الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام یو سی ایچ ایس اور مائنڈ أرگنائزیشن کے تعاون سے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز کے مابین ہم أہنگی کے فقدان کے عنوان سے پری کانفرنس ورکشاپ کا کامیاب انعقاد 19 اگست 2026 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کیا گیا

تازہ ترین خبریں

ماہ ربیع الاول کی خوشیاں ضرور منائیں لیکن اس کا طریقہ اور سلیقہ وہ اپنایا جائے جو آپ ﷺ نے فرمایا اور سمجھایا۔اس اظہار محبت میں حلال حرام نہیں ہو سکتا اور حرام حلال نہیں ہو سکتا۔اپنی زندگیوں میں سے شرک کو نکال دیں اور اپنی تمام امیدیں اللہ کریم سے وابستہ رکھیں۔اپنے والدین کے سامنے سرنگوں رہیں اور افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ سنانواں کوٹ ادو میں دڑہ ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

دینہ( ادریس چودھری)ایس ایچ او دینہ کی اپنے اہلکاروں کے ساتھ غنڈہ گردی۔ رات کے وقت سڑک کنارے درجنوں موٹر سائیکلوں کے ٹائروں پر لوہے کے سوہے چبو کر پنکچر کر ڈالا۔ میڈیا کے سوال پر کہ کس نے آپ کو موٹر سائیکل پنکچر کرنے کی اجازت دی ھے، انتہائی متکبرانہ لہجے میں بولا آپ کو عزت راس نہیں ۔ شہری موثر سائیکلوں کو پنکچر لگوانے کے لیے ذلیل و خوار

ماہ ربیع الاول تجدید عہد کا دن ہے اس دن کو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زندگی کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق گزاریں گے۔آپ ﷺ سے اظہار محبت ہماری زندگی کا اثاثہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت ہی ہمیں زندگی سے آشنائی عطا کرتی ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں اپنی جان نچھاور کرنے کو کامیابی اور فخر سمجھا جاتاہے۔ سیماب ایسی موت کی ہے جستجو مجھے،لپٹا ہو جس میں تہہ بہ تہہ محبوب کا وصال امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا بہاولپور میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

More Interesting News

ماہ ربیع الاول کی خوشیاں ضرور منائیں لیکن اس کا طریقہ اور سلیقہ وہ اپنایا جائے جو آپ ﷺ نے فرمایا اور سمجھایا۔اس اظہار محبت میں حلال حرام نہیں ہو سکتا اور حرام حلال نہیں ہو سکتا۔اپنی زندگیوں میں سے شرک کو نکال دیں اور اپنی تمام امیدیں اللہ کریم سے وابستہ رکھیں۔اپنے والدین کے سامنے سرنگوں رہیں اور افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ سنانواں کوٹ ادو میں دڑہ ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب

دینہ( ادریس چودھری)ایس ایچ او دینہ کی اپنے اہلکاروں کے ساتھ غنڈہ گردی۔ رات کے وقت سڑک کنارے درجنوں موٹر سائیکلوں کے ٹائروں پر لوہے کے سوہے چبو کر پنکچر کر ڈالا۔ میڈیا کے سوال پر کہ کس نے آپ کو موٹر سائیکل پنکچر کرنے کی اجازت دی ھے، انتہائی متکبرانہ لہجے میں بولا آپ کو عزت راس نہیں ۔ شہری موثر سائیکلوں کو پنکچر لگوانے کے لیے ذلیل و خوار