
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).
عوام کا باشعور ہونا معاشرے کے لیے از حد ضروری ہے اگر معاشرہ باشعور عوام سے محروم ہے تو ترقی نہیں ہو سکتی حقوق کا جاننا از حد ضروری ہے تحصیل دینہ کے شہریوں نے اپنی تحصیل دینہ کے جملہ مسائل اپنے عوامی نمائندوں سے پوچھے ہیں اڑھائی سال گزر چکے ہیں عملی طور پر دینہ کو تحصیل کا درجہ کیوں نہیں دلوایا گیا رورل ہیلتھ سنٹر دینہ آج بھی پرانی حالت میں موجود ہے اس کو تحصیل ہیڈ کواٹر کا درجہ کیوں نہیں دلوایا گیا ہر الیکشن میں خوشخبری دی جاتی ہے کے دینہ کو سوئی گیس دی جا رہی ہے اب تک دینہ سوئی گیس سے محروم ہے کیا عوام نے اپنے نمائندوں سے سوال کیا ہے؟؟میونسپل کمیٹی دینہ میں ایک عرصہ دراز سے ایم او ائی ون کی سیٹ خالی ہے اس کی طرف توجہ کیوں نہیں دی گئی خواتین کالج دینہ کے غالبا 17 پوسٹیں خالی ہیں کیا اس سے ہماری بچیاں متاثر نہیں ہو رہی ہمارے نمائندوں نے اس طرف توجہ کیوں نہیں دی منگلا روڈ کی موجودہ صورتحال کا کون ذمہ دار ہے تحصیل دینہ کی انتظامیہ کو اس طرف کون کام کرنے نہیں دیتا خود ساختہ مہنگائی کا کون ذمہ دار ہے گیس سلنڈر عام ادمی کی دسترس میں نہیں ہے اس کو کون کنٹرول کرے گا بلا شبہ تحصیل دینہ کی عوام اگر اس وقت اپنے حقوق سے محروم ہے ان کا سانس لینا مشکل ہو گیا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری ہمارے عوامی نمائندوں پر ہے جنہوں نے اج اپنی عوام کی عملی بہتری کے لیے نہیں سوچا اگر یہی حالت رہی تو عوام بھی اگلے الیکشن میں یقینا اپنے غصے کا ووٹ کے ذریعے اظہار کریں گے



















