
جہلم (نعیم احمد بھٹی) ڈی ایس پی ٹریفک کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟ شہر بھر میں بغیر نمبر پلیٹ کے چلنے والے چنگ چی رکشوں کی بھرمار ڈرائیور وارداتیں کرنے لگے اور شہریوں کے لیے خطرے کا باعث بننے لگے چند روز پہلے جادہ روڈ سے ایک خاتون کچھ سامان لے کر رکشہ پر بیٹھی اور جب شاداب روڈ پر اتری تو رکشے والے نے رکشہ بھگا لیا کیمرے میں آنے کے باوجود تھانہ سٹی پولیس ابھی تک رکشہ ڈرائیور کی شناخت نہ کر سکی ذرائع کے مطابق بغیر نمبر رکشہ چلانے والے کئی لوگ نوسر بازی کرنے لگے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کہاں ہے ڈی ایس پی ٹریفک کی کارکردگی کیا ہے کیا بغیر نمبر پلیٹ کے صرف موٹر سائیکل سواروں کے ہی چالان ہوں گے ان چنگ چی مافیا کے آگے ٹریفک پولیس بے بس کیوں ہے ان کے چالان کیوں نہیں ہوتے تین سے چار سو چنگ چی رکشہ بغیر نمبر کے شہر کی سڑکوں پر کیسے رواں دواں ہیں کوئی بڑا ایکسیڈینٹ کریں تو ان کو ٹریس کون کرے گا شہریوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شفیق احمد چوہدری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں بغیر نمبر پلیٹ کے رکشے سڑکوں پر رواں دواں کوئی پوچھنے والا نہیں چالان صرف بغیر نمبر کے موٹر سائیکل سوار کا ہوگا ڈی ایس پی ٹریفک کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چند روز پہلے ایک خاتون جادہ روڈ سے کچھ گھریلو سامان لے کر رکشہ پر بیٹھی تو شاداب روڈ پر اترنے کے بعد چنگ چی رکشہ ڈرائیور نے رکشہ بھگا لیا خاتون شور مچاتی رہ گئی خاتون کا کہنا ہے کہ 15000 روپے کا سامان تھا جو رکشہ ڈرائیور لے اڑا شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی ٹریفک کی کارکردگی کیا ہے ٹریفک پولیس کہاں ہے کیا ٹریفک پولیس صرف موٹر سائیکل سواروں کے چالان ہی کرے گی اس وقت تین سے چار سو کے قریب بغیر نمبر کے چنگ چی رکشہ سڑکوں پر رواں ہیں وہ کیسے بغیر نمبر کے چل رہے کیا ٹریفک پولیس ان کے آگے اتنی ہی بے بس ہے کہ وہ ان کے چالان نہیں کر سکتی ان کے رکشوں کو تھانوں میں بند نہیں کر سکتی کیا ٹریفک پولیس کا قانون صرف موٹر سائیکل سواروں پر ہی چلتا ہے شہریوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں میں بغیر نمبر کے رکشے آنے کے باوجود کیسے ٹریس کیے جائیں گے وارداتیں بڑھنے لگی ہیں اور اگر خدا نخواستہ یہ کوئی بڑا ایکسیڈینٹ کر کے بھاگ جائیں تو پھر کون ان کو پکڑے گا شہریوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شفیق احمد چوہدری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں بغیر نمبر کے چلنے والے ان چنگ چی رکشوں کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے اور ان کو تھانوں میں بند کیا جائے تاکہ وارداتوں کا سلسلہ رک سکے



















