
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار).نیشنل ہائی وے کی کارگزاری کچھ عرصے سے انتہائی غیر تسلی بخش ہے اگر یہ کہا جائے کہ دیگر محکموں کی نسبت نیشنل ہائی وے والے کسی بھی حوالے سے قابل تعریف نہیں ہیں تو اس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا سوہاوہ سے لے کر جہلم تک دو ٹول پلازے ہیں پنجاب کا واحد ضلع جہلم ہے جو سب سے زیادہ ریوینیو دے رہا ہے اور سوہاوہ سے لے کر جہلم تک جی ٹی روڈ کی جو حالت ہے وہ ناقابل بیان ہے جگہ جگہ کھنڈرات نظر ائینگے وہ گاڑیاں جنہوں نے چھ سال کے بعد خراب ہونا ہوتا ہے چھ یا تین ماہ کے بعد وہ ورکشاپ پہنچ جاتی ہیں اس کا کون ذمہ دار ہے نیشنل ہائی وے والے کام کرنے کے بجائے بلاوجہ ہر سال ٹول پلازہ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور اج تک کسی شہری کو یہ علم نہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے اپ کے اخراجات میں کیا اضافہ ہو گیا ہے اپ نے کون سا کارنامہ کیا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اپ مجاز ہیں ٹول پلازہ میں اضافہ کریں وفاقی حکومت اپنے شہریوں کے احساسات کا اگر احترام کرے تو قرین انصاف ہوگا کہ اس محکمے کو ختم کر دیا جائے پورے پنجاب کے اندر جتنے بھی ٹول پلازے ہیں ختم کر دیے جائیں اس کی جگہ ریوینیو کسی اور طریقے سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے انہوں نے کام نہ کرنے کی قسم اٹھا رکھی ہے اج سوہاوہ سے لے کر جہلم تک کا جو سفر ہے کوئی ادمی سفر نہیں کر سکتا اس بارش نے مزید تباہی مچا دی ہے اور یہ محکمہ اپنی خوش گپیوں میں مصروف ہے متاثر کون ہو رہے ہیں پنجاب کی عوام لہذا وزیراعلی پنجاب کا بھی فرض بنتا ہے کہ وفاقی حکومت کو یہ بابر کرائیں کہ نیشنل ہائی وے کی کارگزاری سے لوگ مطمئن نہیں ہیں ٹول پلازہ سے جو رقم حاصل ہوتی ہے عوام پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیوں میں مصروف ہیں جمہوری ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا ہر محکمہ عوام کے سامنے جواب دہ ہے مقام افسوس ہے کہ لوگ مجموعی طور پر پریشانی کی وجہ سے انہوں نے چپ تان لی ہے اہل دانش کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے اگر نیشنل ہائی وے والوں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو ٹول پلازہ کے قرب و جوار رہنے والے لوگ ٹول پلازہ کے قریب احتجاج کریں گے بہتر ہے کہ یہاں تک نوبت نہ ائے نیشنل ہائی وے والے اپنے فرض کی ادائیگی کریں تنخواہ کام کی ہوتی ہے



















