
تصدیق شدہ مضموناز استاد العلماء ڈاکٹر فیض احمد بھٹی صاحب *استاد کے ساتھ بغاوتی رویہ اختیار کرنے کے دس نقصانات**1️⃣ علم سے برکت اٹھا لی جاتی ہے:* بغاوتی ذہن کا حامل شاگرد، تعلیم تو حاصل کر لیتا ہے، مگر اس کا علم نفع نہیں دیتا۔*2️⃣ فہمِ سلیم سے محرومی:* کتابیں تو اس کے سامنے ہوتی ہیں، مگر رسوخیِ مفہوم دل میں نہیں بیٹھٹی۔*3️⃣ ادب ختم تو علم کی افادیت بھی ختم:* جب کسی طالب علم کے دل سے اساتذہ کا ادب غائب ہوتا ہے، تو پھر علم بھی رخصت ہو جاتا۔*4️⃣ گمراہی کا راستہ سامنے آ جاتا ہے:* کیونکہ استاد کے بغیر طالبِ علم اپنی رائے کو عقلِ کُل سمجھ بیٹھتا ہے۔ اور یوں اکثر معاملات میں بہک جاتا ہے۔*5️⃣ غرور اور خود پسندی پیدا ہو جاتی ہے:* وہ خود کو سب سے زیادہ سمجھدار، قابل اور اعلی صلاحیتوں کا مالک تصور کرنے لگتا ہے۔ دوسرے اسے ہیچ لگتے ہیں۔ نتیجتاً وہ لوگوں کے دلوں سے اتر جاتا ہے۔*6️⃣ حقیقی اصلاح سے محرومی:* کیوں کہ وہ استاد سے بغاوتی رویہ اپناتے ہوئے اس کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ نتیجتاً استاد کی تنبیہ اور اصلاح نہ ملنے سے اس کی غلطیاں زیادہ اور پختہ ہوتی جاتی ہیں۔*7️⃣ علم عملی پہلو سے دور ہو جاتا ہے:* مطلب اس کی زبان پر علمی باتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں، مگر اس کی زندگی میں عملی اثر نہیں ہوتا۔ *8️⃣ اس کی شخصیت بے وقار ہو جاتی ہے:* ایسے شخص کی بات کو اہلِ علم سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ جبکہ معاشرے میں اس کا وقار مجروح ہو جاتا ہے۔*9️⃣ فیضِ استاد سے محرومی:* ایسا شاگرد استاد کی دعاوں، مشوروں، توجہ اور نسبت سے محروم ہو جاتا ہے۔ *🔟 دنیا و آخرت میں نقصان:* نہ اسے دنیا میں علمی مقام و مرتبہ ملتا ہے اور نہ ہی آخرت میں سرخروئی ہوتی ہے۔*خلاصہ کلام یہ کہ:* جو شاگرد اپنے استاد کے سامنے احترام نگاہ جھکاتا ہے، وہ علم و عمل میں بلند و بالا ہو جاتا ہے، لوگوں کے دلوں میں اتر جاتا ہے۔اور جو استاد کے سامنے تکبرانہ اور بغاوتانہ رویہ اختیار کرتا ہے،،، وہ علم و عمل کی اصل روح کھو بیٹھتا ہے اور اپنی عزت پر بھی پانی پھیر لیتا ہے۔ایک مشہور مقولہ ہے:*با ادب بانصیب، بے ادب بے نصیب*منجانب:حافظ محمد امجد جٹ سراءمہتمم مدرسہ علی المرتضیٰ اہلحدیث رجسٹرڈموضع دھن دریائے ستلج پار کونسل رکن پورہ ہٹھاڑ کنگن پور(چونیاں قصور)



















