
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار)زیر تعلیم طلباء و طالبات کا تعلیمی نقصان کیسے بچا سکتے ہیں ؟ ڈپٹی کمشنر جہلم و سی ای او ایجوکیشن مفاد سٹوڈنٹس عملی قدم اٹھائیں ۔سیاسی و علمی زعماء جہلم ۔دسمبر تا جنوری سٹوڈنٹس ایک ماہ سے تعلیم سے محروم ہیں محکمہ تعلیم نے فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل چھٹیاں دے رکھی ہیں۔کاش مقامی ماحول کو مد نظر رکھ کر چھٹیاں دی جاتی کسی حد تک بچوں کا تعلیمی نقصان پورا کیا جا سکتا ہے کہ سالانہ امتحان داخلی 15 مارچ سے قبل نا لینے کا حکم دیا جائے تمام سرکاری و پرائیویٹ اداروں کے سربراہان کو حکم جاری کیا جائے کہ سالانہ امتحان 15 مارچ سے شروع کریں اور 31 مارچ کو رزلٹ کا اعلان کیا جائے مذکورہ طریقہ ماضی قریب اور بعید میں ہو چکا ہے تمام سٹوڈنٹس بابت ماہ مارچ فیس دینے کے پابند ہیں اگر ان کا امتحان فروری یا مارچ کے پہلے ہفتے میں لیا جائے تو ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے مارچ کی فیس کس حساب سے ہے ؟بلا شبہ ایسے تمام پرائیویٹ ادارے جو حکم نامہ پر عمل نہیں کرتے ان کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے نیز جاری شدہ لیٹر میں لکھا جائے کہ تمام ادارے بابت ماہ اپریل حاصل کردہ فیس کی رپورٹ بھی دیں بابت ماہ دسمبر کی رپورٹ بھی مطلوب ہے اس طرح واضح ہو جائے گا کہ کن اداروں نے ایک سال میں دو دفعہ فیس کا اضافہ کیا ہے مہیا کردہ معلومات کی روشنی میں ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جا سکتا ہے۔



















