
*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ* *علم، دعوت اور ادب کا حسین امتزاج*تحریر: حافظ ارشد محمود آف پنڈی گھیب
اسلامی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو بیک وقت کئی میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے کر ایک ہمہ جہت حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ بھی انہی ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ایک نامور عالمِ دین، دل نشین خطیب، ممتاز کالم نگار، معروف اسلامی اسکالر اور بہترین مدرس کی حیثیت سے علمی و دینی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔*تعلیمی پس منظر اور علمی وابستگی:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ نے اپنی دینی و علمی تربیت عالم اسلام کے عظیم علمی مرکز جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے حاصل کی، جو دنیا بھر میں قرآن و سنت کی تعلیم کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے سے فراغت نے ان کے علمی افق کو وسعت دی اور انہیں خالص اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔*ادارہ جاتی خدمات:*ڈاکٹر صاحب ابن عباس اسلامک ریسرچ سینٹر جہلم کے چیئرمین ہیں، جہاں وہ علمی، تحقیقی اور دعوتی سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے دینی تعلیمات کی اشاعت، تحقیق و تصنیف، اور نئی نسل کی فکری رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیا جا رہا ہے۔*خطابت: سوز و تاثیر کی ایک داستان:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ ایک دل نشین اور پُرتاثیر خطیب ہیں۔ ان کی آواز میں سوز بھی ہے اور فکر میں گہرائی بھی۔ وہ جب قرآن و حدیث کے مضامین بیان کرتے ہیں تو سامعین نہ صرف علمی طور پر مستفید ہوتے ہیں بلکہ روحانی طور پر بھی متاثر ہوتے ہیں۔ان کی خطابت کی چند نمایاں خصوصیات:دلنشین اور سادہ اندازمضبوط دلائلسامعین کے مزاج کے مطابق گفتگواصلاحی اور تربیتی پہلوان کے بیانات محض معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ سامع کے دل میں عمل کا جذبہ بھی بیدار کرتے ہیں۔*تدریس: علم کی شمع روشن کرنے والا معلم:*ایک بہترین مدرس کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحب نے بے شمار طلبہ کو علمِ دین سے آراستہ کیا ہے۔ ان کا اندازِ تدریس نہایت منظم، واضح اور فہم کے قریب ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے سبق کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ مشکل مسائل بھی آسانی سے سمجھ میں آ جائیں۔ان کے شاگرد نہ صرف علمی میدان میں آگے بڑھتے ہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی دین پر کاربند رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کسی بھی استاد کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔*خلاصۂ قرآن من فیضِ الرحمٰن*ڈاکٹر صاحب نے قرآنِ مجید کے تیس (30) پاروں کا نہایت سلیس، جامع اور مستند اردو خلاصہ مرتب کر کے عظیم کام سرانجام دیا ہے۔یہ کتاب قرآنِ حکیم کے پیغام کو آسان انداز میں سمجھنے اور قرآنی تعلیمات سے آراستہ ہونے کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔طلبہ، اساتذہ اور عام قارئین کے لیے یکساں مفید،یہ تصنیف تعلیمی اداروں کے نصاب میں ایک انمول اضافہ ثابت ہو سکتی ہے۔آسان فہم اسلوبجامع اور مستند خلاصہفکری و روحانی رہنمائی کا بہترین ذریعہتدریسی و مطالعۂ قرآن کے لیے نہایت موزوں*صحافت اور کالم نگاری:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ ایک ممتاز کالم نگار بھی ہیں۔ ان کے کالموں میں:حالاتِ حاضرہ کا گہرا ادراکدینی بصیرتاور اصلاحی فکرواضح طور پر نظر آتی ہے۔وہ معاشرتی مسائل، دینی موضوعات اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر نہایت متوازن اور مدلل انداز میں لکھتے ہیں، جس سے قارئین کی فکری رہنمائی ہوتی ہے۔*ادبی ذوق اور "مشکات حمد و نعت”:*ڈاکٹر صاحب کا ایک اہم پہلو ان کا ادبی ذوق ہے۔ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، قصیدہ، ترانہ اور دیگر منظومات پر مشتمل اپنا کلام مشکات حمد و نعت کے عنوان سے شائع کیا ہے۔یہ مجموعہ ان کی دینی محبت، ادبی مہارت اور قلبی وابستگی کا حسین مظہر ہے۔ اس میں:اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنانبی کریم ﷺ کی محبت و عقیدتاور اسلامی جذبات کی عکاسینہایت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے۔ان کا کلام سادگی، روانی اور تاثیر کا امتزاج ہے، جو قاری کے دل میں عقیدت اور محبت کے جذبات کو تازہ کر دیتا ہے۔*شخصیت کے نمایاں اوصاف:*ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں:علم و عمل کا حسین امتزاجاخلاص اور للہیتدعوت و اصلاح کا جذبہاعتدال اور حکمتوہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر فیض احمد بھٹی حفظہ اللہ ایک ایسی جامع اور ہمہ گیر شخصیت ہیں جنہوں نے علم، خطابت، تدریس، صحافت اور ادب ہر میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی علمی کاوشیں، دعوتی سرگرمیاں اور ادبی تخلیقات معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ان کی کتاب مشکات حمد و نعت ان کے ذوقِ ادب اور دینی محبت کا ایک روشن ثبوت ہے، جبکہ ان کی تدریسی و دعوتی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔بلاشبہ، ایسے اہلِ علم و فضل معاشرے کی فکری و روحانی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی خدمات مدتوں یاد رکھی جاتی ہیں۔



















