
جہلم (نعیم احمد بھٹی) انسانی زندگیوں سے کھیلنے والوں کی سزا صرف جرمانے کی حد تک ؟ دودھ میں زیر گھولنے والے جرمانہ دیں اور آزاد ہو جائیں پنجاب حکومت کا دودھ میں زہر ملانے والوں کے لیے معمولی سزائیں گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن کی ہدایت پر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جی ٹی روڈ پر چار دودھ کے ٹرکوں کو روکا سیمپل چیک کیے گئے جن میں صرف ایک گاڑی میں لوڈ دودھ کے سیمپل درست نکلے باقی تین ٹرکوں میں لوڈ کیا گیا 21 سو لیٹر دودھ ملاوٹ شدہ نکلا جو کہ اس ملک کے حکمرانوں کے لیے بہت بڑا المیہ ہے جبکہ محکمہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ناقص کارکردگی بھی سامنے آئی ہے ؟ بات صرف جرمانوں کی حد تک لا کر ختم کر دی جاتی ہے نہ پوچھا جاتا ہے کہ یہ دودھ کہاں تیار ہوا اور کس شہر کی کس دکان پر سپلائی کیا جا رہا تھا اور وہ مکروہ چہرے والا دکاندار کہاں کہاں یہ زہر فروخت کر رہا ہے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو وہ مکروہ اور بے حس دکانداروں کو بھی سامنے لانا چاہئیے تاکہ شہری آئیندہ اس حرام خور دکاندار سے یہ دودھ نہ خریدیں لیکن ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون ہی الٹ ہے یہ نشہ کرنے والوں کو پکڑتے ہیں نہ کہ نشہ فروخت کرنے والوں کو تو ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن سے شہری یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اصل جڑ کو بھی پکڑیں اور ان کو بھی پکڑیں جہاں یہ دودھ تیار ہوتا ہے اور جہاں یہ دودھ فروخت ہوتا ہے اور اس کے لیے سزائیں بھی سخت بنائیں انسانی زندگیوں سے کھیلنے والوں کے لیے سزائے موت کی سزا رکھی جائے تاکہ آئیندہ کسی کو یہ جرآت نہ ہو کہ وہ دودھ میں زہریلہ کیمکل ملائے پنجاب حکومت بس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے پیچھے پڑی ہے پوری پولیس فورس چالانوں تک محدود کر دی گئی کاش پنجاب حکومت ان چینی مافیا ان آٹا مافیا ان ملاوٹ مافیا کے خلاف بھی اگر اسی طرح سخت ایکشن کرے تو کوئی وجہ نہیں اس ملک سے تمام مافیا کا خاتمہ ہو جائے



















