چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

مئی 10, 2026 7:40 شام

آپریشن بُنیان مرصوص: تاریخ ساز معرکہ اور عہد ساز فتح* بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*آپریشن بُنیان مرصوص: تاریخ ساز معرکہ اور عہد ساز فتح* بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

برصغیر کی تاریخ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کئی عسکری معرکوں سے بھری پڑی ہے، مگر گذشتہ برس ہونے والا "آپریشن بنیان مرصوص” کئی اعتبار سے ایک منفرد اور غیر معمولی معرکہ ثابت ہوا۔ یہ صرف میزائلوں، ڈرونز اور جنگی طیاروں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ یہ مضبوط اعصاب؛ کمال حکمتِ عملی، جدید ٹیکنالوجی، سٹرونگ انٹیلی جنس اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ قیادت بروقت فیصلوں اور بہادری کی اعلی مثال تھی۔ اس معرکہ حق نے دنیا پر واضح کر دیا کہ جدید جنگیں محض جذبات یا نعروں سے نہیں جیتی جاتیں؛ بلکہ اس کےلیے پائیدار منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت اور غیر معمولی نظم و ضبط درکار ہوتا ہے۔یاد رہے! اس جنگ کا آغاز اُس وقت ہوا جب بھارت نے "آپریشن سندور” کے نام سے 6 اور 7 مئی 2025ء کی درمیانی شب پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اچانک مبینہ میزائل حملے کیے۔ بھارتی حکومت نے اس کارروائی کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل 2025ء کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی جوابی کاروائی قرار دیا، جس میں 26 انڈین افراد ہلاک ہوئے تھے۔کیونکہ بھارت کا موقف یہ تھا کہ اس حملے کے تانے بانے پاکستان سے ملتے ہیں، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔بھارتی قیادت نے تحقیقات یا سفارتی راستہ اختیار کرنے کی بجائے عسکری کارروائی کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صورتحال تیزی سے خطرناک رخ اختیار کرنے لگی۔ یوں بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان کے 9 شہروں پر میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ، کوٹلی، باغ اور مظفرآباد میں 30 لوگ شہید اور71 زخمی ہو گئے۔ جواباً پاکستان نے "آپریشن بنیان مرصوص” شروع کیا، جس کا نام قرآنِ مجید کی اُس آیت سے لیا گیا، جس کا ترجمہ "سیسہ پلائی ہوئی دیوار” ہے۔ اس تعبیری نام کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستانی قوم، ریاست اور افواجِ پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں متحد، مضبوط اور دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں۔پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ بھارت کے ان میزائل حملوں کے بعد پاکستان کی عسکری قیادت اس ہنگامی صورتحال میں متحرک ہو گئی۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نمازِ فجر ادا کروائی، ملکی سلامتی اور کامیابی کےلیے خصوصی دعا کی گئی، اور اس کے فوراً بعد جوابی کارروائی کا آغاز ہو گیا۔ پاکستان نے جدید میزائل سسٹم کے ذریعے متعدد اہم بھارتی عسکری تنصیبات کو اڑا دیا۔ بھارت نے اپنے جنگی طیارے حرکت میں لانے کی کوشش کی، مگر پاکستانی سائبر ماہرین نے دشمن کے کمیونی کیشن اور ریڈار نیٹ ورک کو تباہ کر دیا۔پھر پاکستانی فضائیہ اور ڈرونز نے مختلف اہداف پر پے در پے کارروائیاں کیں۔ نتیجتاً بھارتی فضائی نظام ناکارہ ہو گیا۔ اور متعدد بھارتی ائیر بیسز نیست و نابود ہو گئیں۔اِن بڑھتے ہوئے تباہ کن نقصانات کے باعث صورتحال کی سنگینی دیکھتے ہوئے بھارت نے جنگ بندی کےلیے امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور چین سمیت کئی ممالک سے شدت کے ساتھ رابطے شروع کر دیے؛ تاکہ فوری جنگ بندی کی کوئی راہ نکالی جا سکے۔ یوں بھارت کی یہ منت سماجت کام آ گئی اور دوست ملکوں کے کہنے پہ ہماری سیاسی و عسکری لیڈر شپ نے فوج کو no more کا پیغام دے دیا۔ کہا کہ بس اینی بڑی اے۔خدا کی کرنی دیکھیں! کل تک جس پاکستان کو دنیا مشکوک نظروں سے دیکھتی تھی، جس کے پاسپورٹ کو عزت نہیں دیتی تھی، جسے ایک دہشت گرد ملک سمجھتی تھی،،، اُس پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ٹھکائی کے بعد دنیا پاکستان کو ایک مضبوط دفاع کا حامل اور معتبر ملک کے طور پہ دیکھنے لگی۔ یوں پاکستانی فوج کی بہادری کے چرچے زباں زدِ عام ہو گئے۔پھر جب ایران امریکہ جنگ ہوئی اور اس میں پاکستان نے دونوں کے بیچ میں بھرپور مصالحت کا کردار ادا کرتے ہوئے سیزفائر اور مذاکرت کروا کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا، تو ساری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور دشمن کے گھر میں گھس کر اسے چھٹی کا دودھ یاد دلانا جانتا ہے؛ بلکہ یہ ایک امن پسند ملک ہونے کے ناتے سے متحارب ملکوں کے بیچ میں دشمنی کی آگ بجھانا بھی جانتا ہے۔یہاں یہ بھی انکشاف کرتے چلیں کہ پاکستان نے اس جنگ میں اپنے جے ایف-17 (JF-17) اور جے 10 سی (J-10C) لڑاکا طیاروں کے ذریعے بھارت کے فرانسیسی کمپنی ساختہ چار رافیل طیاروں سمیت تقریباً 11 طیارے گرائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی طرف سے بھارت کے طیاروں کے گرائے جانے کی تصدیق کی اور کئی بار کہا کہ مودی نے مجھے جنگ بندی کےلیے ریکوئسٹ کی اور میرے کہنے پہ پاکستان نے جنگ روکی، ورنہ بھارت پاکستان کی جارحانہ کارروائیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے ڈھیر ہو جاتا۔آخر میں ہم اپنے ملک کی اس عظیم فتح پہ اپنی بہادر اور عظیم فوج کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک ولولہ انگیز ترانہ پیش کر رہے ہیں، جو وطن سے محبت، قربانی، شجاعت اور قومی غیرت کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ ترانہ اُن شہدا کے نام ہے، جو ملک کی حرمت پہ کٹ مرے، یہ ان جاں باز سپاہیوں کے نام ہے، جو وطنِ عزیز کے دفاع کےلیے ہر لمحہ سینہ سپر رہتے ہیں۔*خراجِ تحسین اور ہدیہ عقیدت بخدمت افواج پاکستان*سوہنی دھرتی دے فوجی جواں، تے پُھلاں دی بارش کروجُرأتاں دے مسلسل نشاں، تے پُھلاں دی بارش کرو1توحیدی نعرہ لگا دیندے نےدِل دشمناں دا لرزا دیندے نےنالے ہونٹاں تے رب دا قرآں، تے پُھلاں دی بارش کروسوہنی دھرتی دے۔۔۔۔2دشمن انڈیا تے پاویں اسرائیل ہینسب تے حاوی ایہ ابابیل ہینمارے ضرباں تے سُن دا جہاں، تے پُھلاں دی بارش کروسوہنی دھرتی دے۔۔۔۔3جاناں دیون توں ڈردے نہیوںاگے جاون توں ہردے نہیوںاُتے تلیاں دے رکھی اے جاں، تے پھلاں دی بارش کروسوہنی دھرتی دے۔۔۔۔4فیض دیوے سلامی جواناں نوںراہِ حق دے حقیقی نشاناں نوںنال فوجاں دے موجاں رواں، تے پُھلاں دی بارش کروسوہنی دھرتی دے فوجی جواں، تے پُھلاں دی بارش کروجرأتاں دے مسلسل نشاں، تے پُھلاں دی بارش کرو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں