
جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار)گزشتہ روز دینہ پریس کلب کا اجلاس زیر صدارت سید توقیر اصف ہوا اجتماعی طور پر مایوسی کا اظہار کیا گیا کہ انتظامیہ دی گئی مثبت تجاویز کو تاحال سنجیدگی سے نہیں لے رہی اغاز تلاوت قران پاک سے ہوا تمام ممبران و عہدیداران نے شرکت کی متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ مزید انتظار کیا جاتا ہے مایوسی کی صورت پر دینہ پریس کے تمام ممبران کمشنر راولپنڈی سے ملاقات کریں گے اور اپنا جائز مطالبات پیش کریں گے مالدیو مھال سے جو رقبہ برائے مشترکہ قبرستان خریدا گیا ہے اس کی چار دیواری تاحال نہیں بنائے گئی اب مذکور جگہ کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہے منگلا روڈ پر انتظامیہ میں غیر قانونی اجازت دے رکھی ہے کہ موٹرسائیکل روڈ پر کھڑے کر سکتے ہیں حالانکہ گاڑیوں کے لیے پارکنگ کی جگہ منگلا روڈ پر موجود ہے شام کے قریب تقریبا تمام سبزی پھل فروش فٹ پاتھ پر ریڑھی لگاتے ہیں جس سے پیدل چلنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے گیس سلنڈر عام شہری خرید نہیں سکتا انتظامیہ کنٹرول کرنے پر ناکام ہو چکی ہے سالانہ بجٹ جون میں پیش ہونا ہے کیا انتظامیہ نے زمینی حقائق کے پیش نظر اور ہیڈ برج کی ضرورت کے پیش نظر حکومت پنجاب کو لیٹر لکھا ہے؟؟رورل ہیلتھ سینٹر دینہ کو تا حال تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال نہیں بنایا گیا تھا جس کی وجہ سے عام شہری پریشان ہے انتہائی معذرت کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ انتظامیہ حسب توقع مفاد عوام کے کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے



















