

جہلم( پروفیسر خورشید علی ڈار )ایڈیٹر ڈیلی دی ٹیلی گرام۔سٹیشن ڈایریکٹر92ایف ایم میرپور سونیا انور چوہدری نے ڈی ای جی کامران علی مغل سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں بطور ڈی آئی جی میرپور ڈویژن ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر فیصل گلزارسینیروائس پریزیڈنٹ کشمیرپریس کلب اورشفاقت راجہ عدالت نیوز موجود تھے۔ملاقات کے دوران خطے میں امن و امان، پولیس اصلاحات، عوامی سہولیات اور شہریوں کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر کامران علی مغل نے کہا کہ شہریوں کو جدید اور فوری سہولیات کی فراہمی کے لیے “خدمت مرکز موبائل وین” کے قیام پر کام جاری ہے، جو ابتدائی مرحلے میں میرپور میں اپنی خدمات فراہم کرے گی جبکہ بعد ازاں اس منصوبے کو دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ موبائل وین کے ذریعے شہریوں کو موقع پر ہی مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں ڈرائیونگ لائسنس، کریکٹر سرٹیفکیٹس، جنرل شکایات اور اوورسیز کشمیریوں کی شکایات کا فوری ازالہ شامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پولیس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جدید کمپیوٹر لیب کے قیام پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ دفتری اور تفتیشی امور میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ وومن ہراسمنٹ سینٹر کے قیام کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے، جہاں خواتین مکمل رازداری اور تحفظ کے ساتھ اپنی شکایات درج کروا سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ سینٹر کا تمام عملہ خواتین پر مشتمل ہوگا تاکہ خواتین کا اعتماد بحال اور مضبوط بنایا جا سکے۔ڈی آئی جی میرپور ڈویژن نے کہا کہ پولیس لائنز کی اپ گریڈیشن بھی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ پولیس اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کو کسی صورت سڑکوں پر “عدالت” لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ قانون کے مطابق کارروائی کرنا اور قانونی تقاضوں کو مکمل طور پر فالو کرنا پولیس کی بھی ذمہ داری ہے، جس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے جبکہ اینٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر تعینات عملے کی باقاعدہ روٹیشن بھی یقینی بنائی جائے گی تاکہ سکیورٹی نظام مزید مضبوط ہو اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔مہملانی منگلا انٹری پوائنٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی شکایات کے پیش نظر چاروں لائنز کو فعال کر دیا گیا ہے جس سے شہریوں کو آمدورفت میں نمایاں سہولت حاصل ہوئی ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پولیس ایسا ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے جہاں شہری بالخصوص خواتین تھانوں میں آ کر خود کو محفوظ محسوس کریں اور بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کروا سکیں۔۔۔


















