
*لبيک یا حرمين شریفین* *ابرہہ کے یمنی ہاتھی ہوں یا یمنی حوثی، مکے پر حملہ کرنے والوں کی رسوائی و تباہی پتھر پہ لکیر*بقلم: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی
یہ بات تاریخ اور اسلامی عقائد کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل اور گواہ ہے کہ "خانہ کعبہ” کی حرمت پر حملہ کرنے والا ہمیشہ عبرت کا نشان بنا۔ابرہہ اور یمنی ہاتھیوں کا انجام تاریخِ اسلام کا ایک مشہور واقعہ اور عبرت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یمنی گورنر ابرہہ "کعبہ شریف” کو ڈھانا چاہتا تھا، اور اہل مکہ کو ستانا چاہتا تھا۔ چناچہ ہاتھیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا اور طاقتور لشکر لے کر نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں (چھوٹے سے پرندوں) کے ذریعے کنکریوں کی بارش کی، جس نے ابرہہ کے پورے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح تباہ کر دیا۔یہ واقعہ قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں مفصل موجود ہے۔حرم مکہ کی حفاظت کا الٰہی وعدہ قرآن و حدیث کے مطابق تا قیامت قائم دائم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو "حرم امن” یعنی امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا ہے۔ جو بھی اس مقدس مقام کو نقصان پہنچانے یا اس کی بے حرمتی کی کوشش کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔سیاسی یا عسکری تنازعات اپنی جگہ، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے شعائرِ اسلام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا کسی بھی قوت کےلیے ہمیشہ تباہی اور رسوائی کا سبب بنتا ہے۔یمن کے حوثی دہشتگرد (ایرانی حمایت یافتہ باغی) طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنازعات کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اپنے گھناؤنے سیاسی و نظریاتی مفادات کے حصول کے لیے انہوں نے یمن کے اندر اور سرحد پار متعدد ایسی عسکری کارروائیاں کی ہیں، جنہیں عالمی سطح پر "دہشت گردیاں یا تخریبی سرگرمیاں” قرار دیا جاتا ہے۔حوثی دہشتگردوں کی چند بڑی عسکری اور جارحانہ کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:1سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملے،سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے: حوثی طویل عرصے سے سعودی عرب کی آرامکو (Aramco) تنصیبات، ایئربیسز اور پائپ لائنوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بناتے رہے ہیں۔ جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کافی اضافہ اور سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ 2مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سمت ڈرون حملے (تازہ ترین تنازع): باوثوق ذرائع کے مطابق حوثیوں نے مسلمانوں کے مقدس ترین شہر "مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ” کی طرف متعدد بار مزائل اور ڈرون داغے۔ اس اقدامِ جرم پر پاکستان سمیت پورے عالمِ اسلام میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔3بحیرہ احمر (Red Sea) اور عالمی جہاز رانی پر حملےبحری جہازوں کو نشانہ بنانا: حوثیوں نے بحیرہ احمر اور اہم تجارتی گزرگاہ باب المندب میں بین الاقوامی تجارتی اور مال بردار بحری جہازوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔ 4اسٹریٹجک جزائر پر قبضہ: حوثی ملیشیاؤں نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اسٹریٹجک جزائر (جیسے کہ حنیش جزائر اور جزیرہ پریم) پر زبردستی تسلط قائم کر کے عالمی بحری راستوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 5یمن کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور خانہ جنگی،سیاسی مخالفین کا اغوا و قتل: حوثیوں نے یمن کے اندر ہزاروں سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو زبردستی حراست میں لیا اور نامعلوم مقامات پر قید کر کے قتل کیا۔ 6حکومت یمن اور فوج پر حملے: انہوں نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ آئینی حکومت کے اور اس کے فوجی کیمپوں پر بار بار حملے کر کے جنگ بندی کے معاہدوں کو سبوتاژ کیا ہے، جس سے لاکھوں یمنی شہری شہید اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ یاد رہے: حوثیوں کی ان مسلسل دہشتگردانہ کارروائیوں کو اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی جانب سے عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی، اور علاقائی امن و سلامتی کےلیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان گھمبیر حالات میں پورے عالم اسلام کو حرمین شریفین کی حرمت کےلے کھڑے ہونا چاہیے۔ ویسے بھی پاکستان پر سعودی عرب کی لازوال اور بے مثال قربانیوں اور بے لوث تعاون کا تقاضہ ہے کہ اب "مکہ دفاعی معاہدے” کو فوری طور پہ اہمپلیمٹ کیا چائے۔دوسری طرف حوثیوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں سمیت تمام دشمنان "حرمین شریفین” کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ مکے مدینے کی حرمت و دفاع کےلیے ہر پاکستانی کی جان حاضر و قربان ہے۔



















