


میرپور۔ منگلا (رپورٹ: آصف محمود چودھری) میر پور و گردونواح اور منگلا میں آوارہ کتوں کی بھرمار منگلا بس سٹاپ ان کے ٹھہرنے کی بہترین جگہ بن گئی اکثر قصاب کی دکانیں بند ہونے کی وجہ سے یہ کتے پریشانی میں بھونکتے ہیں اور قریب سے گزرنے والے عوام کو بھی کاٹنے کے لیے دو ڑتے ہیں اسی طرح منگلا ہیملٹ منگلا کالونی میں بھی کتے سڑکوں پر گلیوں میں گھومتے نظر اتے ہیں میر پور نانگی کھمبال کلیال ایف ون ایف ٹو فاضل چوک میں بھی ان کتوں سے عوام تنگ ہیں عوام سخت پریشانی میں مبتلا ہے پہلے کچلا ڈال کر ان کا خاتمہ کیا جاتا تھا لیکن اب ان کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا قصاب کی دکانیں اکثر بند ہونے کی وجہ سے اور چچھڑے نہ ملنے کی وجہ سے کتوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے اور جو دکانیں قصاب کھولتے ہیں چچھڑے اور ہڈیاں اور دیگر جانوروں کا گند کچرہ روزانہ گاڑی اٹھا کر لے جاتی ہے جس سے قصاب اور مرغی کا گوشت بیچنے والے سالانہ لاکھوں کچرے اور چھچھڑوں کا وصول کرتے ہیں میر پور اور ارد گرد کے علاقوں میں کچرا اٹھانے والی گاڑیاں شام کے وقت گھومتی نظر اتی ہیں اور بدبو سے انسان کا سانس لینا محال ہو جاتا ہے جبکہ کتے گد اور دیگر جانور جو یہ چھچھڑے یا کچرا کھاتے تھے اب صرف کتے باقی بچے ہیں جو اب عوام کو کاٹنے دوڑتے ہیں ان کو کھانے کو کچھ نہیں ملتا متعلقہ اداروں نے بھی اس اہم معاملے پر خاموشی اپنائی ہوئی ہے اور عوام سخت پریشانی میں مبتلا ہے ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے عوام نے متعلقہ اداروں سے کسی موثر بندوبست کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی مشکلات دور ہو سکیں اور کچرا اٹھانے والی گاڑیاں جو کھلے عام کچرے کو بغیر ڈھانپے گاڑیاں کچرا اٹھا رہی ہیں ان کو بھی مناسب بندوبست میں کچرہ اٹھانے کی اجازت دی جائے اور کچرا اٹھانے والی گاڑیوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ عوام بدبو اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکے میرپور بھر میں بھی یہی صورتحال ہے عوام نے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی مشکلات دور ہو سکیں



















