
ہر متنفس کو موت کے دروازے سے گزرنا ہے۔ سکرات الموت کے لمحات کے وقت مشکل اور آسانی کا تعین ہم نہیں کر سکتے کیونکہ ایک لمحے میں روح نکل جائے اور اللہ کریم اسے صدیوں کی طوالت دے دیں تو کون ہے جو اسے محدود کر سکے گا؟ آج کی جدت نے ہمیں ہر چیز سکھا دی ہے لیکن بنیاد جو نیت ہے اس کی طرف ہماری توجہ نہیں ہے۔تمام امو ر میں چاہے وہ عبادات کے ہوں یا معاملات کے ان سب میں بنیاد نیت ہے۔آج سارا زور اس بات پر لگایا جا رہا ہے کہ لوگ میرے بارے کیا سوچتے ہیں میری حیثیت کیا ہے؟ میرا پہننا اوڑھنا کیسا ہے میرا لائف سٹائل کیسا ہے۔لیکن جو اصل ہے جسے نیت کہتے ہیں اس کو ہم نے بھلا دیا ہے جس پر تمام اعمال کا دارومدار ہے۔اگر دل میں نفاق ہو گا تو سارے دعوے دھر ے کے دھرے رہ جائیں گے۔اور اگر دل میں خلوص ہو تو یہ ایسی شئے ہے جو بندے کو ڈوبنے نہیں دیتا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب انہوں نے کہا کہ بخشش ہمارے اعمال سے نہیں اللہ کے کرم سے ہوگی۔وہ ایسا اعمال نامہ ہو گا لوگ کہیں گے کہ کیسا اعمال نامہ ہے جس نے چھوٹی سی چھوٹی بات کو بھی نہیں چھوڑا ہر عمل اس پر لکھا ہوا ہے۔جزا و سزا مزاج انسانی پر بہت گہرا اثر رکھتا ہے۔ایمان کے جتنے حصے جن کی ہمیں ضرورت ہے اللہ کریم نے وہ سارے ہمیں عطا فرمادئیے ایمان کے بغیر کوئی انسانی تعمیر کر ہی نہیں سکتا جس میں عدل ہو جس میں انصاف ہو۔جسے اچھا اور اعلی کہا جا سکے۔جو بھی اپنی خواہشات کے پیچھے چلا وہ کسی نہ کسی بت کے سامنے سجدہ کرتا تھا۔کہیں نہ کہیں مخلوق پر اپنی کبر اور اپنی حکمرانی کے دعوے کرتا رہا۔اس کے خزانے ہی اس کے لیے وبال بنتے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی وہ ہے عزت وہ ہے جو اصول اور ضابطے پر ہوتی ہے کسی کے سمجھنے اور کسی کے دعوے پر نہیں ہوتی۔ساری دنیا بھی غلطی پر جمع ہو جائے پھر بھی وہ غلطی ہی ہو گی حق وہی ہے عزت وہی کامیابی وہی جسے اللہ کریم نے کامیابی ارشاد فرمایا ہے۔عزت صرف اس بات میں ہے جس کا اللہ کریم فرما رہے ہیں کہ اس کام میں عزت ہے۔اگر صرف دنیاوی کامیابی کو کامیابی سمجھا جائے گا تو پھر سب سے زیادہ کامیاب تو فرعون رہا لیکن اس کا حشر عبرت کا نشان بنا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتاعی دعا بھی فرمائ



















