






جہلم// پروفیسر خورشید علی ڈار کی رپورٹ
دینہ کے مضافاتی علاقوں میں "ستھرا پنجاب” مہم کے دعوے ہوا میں اڑ گئے؛ہرطرف گندگی کے ڈھیر حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کی گئی "ستھرا پنجاب” مہم تحصیل دینہ کے مضافاتی علاقوں میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ جہاں ایک طرف حکومت صوبے کو صاف ستھرا بنانے کے دعوے کر رہی ہے، وہیں دینہ کے مضافات میں زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
مضافاتی علاقوں سے موصول ہونے والی تصاویر اور عوامی شکایات کے مطابق، کئی مقامات پر کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ خالی پلاٹوں، گلیوں کے کناروں اور یہاں تک کہ تعلیمی اداروں کے قریب بھی صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ پلاسٹک کے تھیلوں، کھانے پینے کی اشیاء کے ریپر اور دیگر کچرے نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
تعلیمی اداروں کے گردونواح میں گندگی انتہائی تشویشناک بات ہے "گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری اسکول کُرلا”جیسے تعلیمی اداروں کے باہر اور راستوں پر بھی گندگی کے ڈھیر موجود ہیں۔ اسکول جانے والی طالبات کو اس تعفن زدہ ماحول سے گزرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف ان کی صحت کے لیے مضر ہے بلکہ تعلیمی ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
علاقے میں موجود تالابوں اور خالی پلاٹوں کو کچرا کنڈی بنا دیا گیا ہے۔ یہاں جانوروں کا فضلہ اور دیگر غلاظت پڑی ہوئی ہے، جو شدید تعفن کا باعث بن رہی ہے۔ اس گندگی کی وجہ سے مچھروں اور مکھیوں کی بھر مار ہے، جس سے مختلف وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مقامی رہائشیوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ "ستھرا پنجاب” مہم کے نام پر صرف فوٹو سیشن کر رہی ہے جبکہ عملی طور پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ صفائی ستھرائی کا عملہ ان علاقوں کا رخ تک نہیں کرتا۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دینہ کے مضافاتی علاقوں میں "ستھرا پنجاب” مہم کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جائے اور تعلیمی اداروں کے قریب سمیت تمام گندی جگہوں سے کچرا فوری طور پر اٹھایا جائے تاکہ عوام کو بیماریوں اور تعفن سے نجات مل سکے۔



















