















پروفیسر خورشید علی ڈار کی رپورٹ کے مطابق ۔گزشتہ روز جہلم کے سینیئرز جونیئرز ڈاکٹرز کا ایک مقامی ہوٹل میں اجتماع ہوا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سید شبیر اختر تھے۔تقریب کی صدارت ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کی ۔جہلم کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا اجتماع تھا اس کی غرض و غایت صرف یہ تھی کہ ڈاکٹرز کمیونٹی کے اندر مزید اتحاد پیدا کیا جائے اور ایف بی ار نے جو ظلم اور زیادتی کی ہے اس کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا جائے۔ڈاکٹر توقیر احمد۔ڈاکٹر زبیر یونس۔ڈاکٹر زبیر انور خان۔ڈاکٹر میجر ریاض قمر۔ڈاکٹر ملائکہ۔ڈاکٹر خالد محمود ڈاکٹر روداب عرفان۔ڈاکٹر میجر عذرا پروین ۔ڈاکٹر علی شوکت۔ڈاکٹر ظہور الحق کیانی۔ڈاکٹر عاصم رضوی۔ڈاکٹر کرنل نیر شہزاد۔ڈاکٹر نصیر احمد۔نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی ار کے موجودہ طرز عمل سے نہ صرف ڈاکٹرز کمیونٹی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ایک عام شہری جو مریض کی حیثیت سے کسی ہسپتال میں جاتا ہے اس پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کا قانونی نقطہ یہ تھا کہ ہسپتال اور کلینکس جو عوام کی خدمت کر رہے ہیں ان کو ایک کاروباری شخص کی طرح ڈیل نہیں کیا جا سکتا وجہ یہ ہے کہ ہر مریض اپنی مخصوص مرض رکھتا ہے اور اس کی رازداری قائم رکھنا ڈاکٹرز کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔بلاشبہ ایف بی آر نے بغیر سوچے سمجھے نان ایشو کو ایشو بنا کر ڈاکٹرز کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ جو شخص جو ادارہ حکومت پاکستان کو ٹیکس دے رہا ہے وہ ڈاکٹرز کمیونٹی ہے خدارا اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔تاکہ ہم دوبارہ پاکستان کے شہریوں کی خدمت میں مصروف ہو جائیں انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور مقامی سیاسی قائدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ہمارے مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور مثبت فیصلہ کریں مقررین کا یہ کہنا تھا کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں رائج الوقت قوانین کی پاسداری کرنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں ہمارا احتجاج ہمیشہ پُرامن رہا ہے اور پرامن رہے گا بہرحال حکومت وقت کو بھی ہمارے جذبات احساسات اور حقوق کا خیال رکھنا ہوگا ۔



















