چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

نومبر 8, 2026 7:51 شام

15نومبر، آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس* (مقاصد، منشور، اہمیت، نتائج)*تحریر: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی

*15نومبر، آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس* (مقاصد، منشور، اہمیت، نتائج)*تحریر: ڈاکٹر فیض احمد بھٹی*

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے زیرِ اہتمام 15 نومبر 2026ء بروز اتوار "مینارِ پاکستان لاہور” میں "آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس” کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس کانفرنس کی صدارت و قیادت مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کر رہے ہیں، جبکہ ناظمِ اعلیٰ علامہ عبدالرشید حجازی اور کنوینئر سید سبطین شاہ نقوی انتظامات کے نگران ہیں۔*اِس کانفرنس* کا مقصد و مِحور: تحفظِ حرمین شریفین کےلیے جُہدِ مسلسل، استحکامِ پاکستان کےلیے کاوش، اتحادِ امت کےلیے تگ و دو اور ملک سے فرقہ واریت کا قلع قمع کرنا ہے۔ کانفرنس میں فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر پوری امت کو علم و عمل اور اخلاقیات کی دعوت و آگاہی دی جائے گی۔*کانفرنس* کو کامیاب بنانے کےلیے جماعتی قیادت و سیادت سے لیکر ادنیٰ کارکن تک سب ہی بڑھ چڑھ کر اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے "مرکزی سیکرٹریٹ 106 راوی روڈ لاہور” سمیت ہر صوبے، ضلعے، تحصیل اور شہر میں قائدینِ مرکزیہ اور کارکنان کے لمحہ بہ لمحہ مشاورتی اجلاس جاری ہیں۔*”مرکزی جمعیت اہلحدیث”* کے منشور، کردار اور خدمات کو اگر دیکھا جائے تو یہ پاکستان کی ایک نمایاں ترین مذہبی، سیاسی اور سماجی افکار کی حامل جماعت ہے۔ اس جماعت نے ہمیشہ قرآن و سنت کا عَلم بلند رکھا، اسلام کی معتدل انداز میں ترجمانی و ترویج کی اور امت مسلمہ میں اتحاد و یگانت قائم کرنے کےلیے بڑا فعال کردار ادا کیا۔ مرکزی جمعیت نے وطنِ عزیز کے استحکام و ترقی کےلیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ملکی حفاظت اور امن و امان کی بالا دستی قائم رکھنے کےلیے فوج سمیت تمام سیکورٹی اداروں کا بھرپور ساتھ دیا۔ قومی، ملی اور دینی خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کی جہود کو دائم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مرکزیہ نے کبھی بھی ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی کبھی دھرنے اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کی ہے۔ ملک میں دہشتگردی کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی؛ بلکہ اس سلسلے میں ملک و قوم کا بھرپور ساتھ بھی دیا۔ علاوہ ازیں خدمتِ خلق اور تعلیم وتربیت کےلیے بھی مرکزیہ نے کئی مفید شعبہ جات قائم کر رکھے ہیں، جو ملک و قوم کی خدمت میں بے لوث مصروف ہیں۔*جی ہاں* ہم بات کر رہے تھے کانفرنس کی، تو اِس کانفرنس کی اہمیت اِس اعتبار سے بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس میں دو عنوان مرکزی طور پر نمایاں اور عیاں ہیں۔*نمبر ایک* "حرمین شریفین” کا تحفظ و دفاع: چونکہ "مکہ و مدینہ” پوری امت مسلمہ کی ریڈ لائین ہے۔ لہذا اِن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا کسی بھی مسلمان کو قابلِ قبول نہیں، چہ جائے کہ اِن پر میزائل داغے جائیں!!! اِس لیے دنیا کے بدترین دہشتگرد حوثیوں کی شرمناک اور خطرناک حرکت کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا! دریں حالات حوثیوں کو للکارتے ہوئے "مکہ و مدینہ” کے حق میں مؤثر ترین آواز اٹھانا بے حد ضروری تھا۔ سو یہ سعادت باَتم درجہ حاصل کرنے کےلیے مرکزی جمعیت اہلحدیث مینار پاکستان لاھور میں حرمین شریفین کے حق میں پاور شو دکھانے جا رہی ہے۔*ایں سعادت بزورِ بازو نیست**تا نہ بخشد خدائے بخشندہ**دوسرا* اِس کانفرنس میں استحکامِ پاکستان کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ نقطہ بھی انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ وطنِ عزیز کو کئی اندرونی و بیرونی سازشوں اور فتنہ پروروں کا مقابلہ درپیش ہے۔ ایسے موقع پر *”سیاست نہیں، پہلے ریاست”* کا نعرہ لگانا اور *”استحکامِ پاکستان”* کےلیے آواز بلند کرنا نہایت ضروری تھا۔ چنانچہ اِس بات کو بھی کانفرنس میں مرکزی حیثیت دی گئی۔*ویسے بھی* یہ نعرہ زبان زدعام اور ہر محب وطن پاکستانی کی رگ رگ میں رچا بسا ہے کہ:*(پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ)**(سعودی عرب سے رشتہ کیا، لا الہ الا اللہ)*اس لیے یہ واضح رہے کہ پاکستان کو "حرمین شریفین” کے *محافظ* بننے کا جو اعزاز حاصل ہوا ہے، اسے اجاگر کرنے کےلیے 15 نومبر کی یہ کانفرنس ایک اہم ترین کانفرنس ثابت ہوگی۔ *مجموعی* طور پر اس کانفرنس کے نتائج ملکی اور بین الاقوامی سطح پر: پاکستان، ایشین خطے اور امت مسلمہ سمیت پوری دنیا کےلیے دُوررس ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ*یہاں یہ بتانا* بھی ضروری ہے کہ بعض شرپسند عناصر اِس کانفرنس کے حوالے سے کئی طرح کی جھوٹی باتیں پھیلانے اور شوشے چھوڑنے میں مبتلا ہیں، لہذا کارکنان کو ایسے پراپیگنڈوں کی طرف بالکل دھیان نہیں دینا چاہیے؛ بلکہ خلوص و یکسوئی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن رہیں اور اِس عظیم الشان کانفرس کو کامیاب بنانے کےلیے دن رات ایک کر دیں!*عُرفی تُو مندیش زغوغائے رقیباں**آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را*اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ایسی "گرینڈ کانفرنسز” میں ملک اور بیرونِ ملک سے مختلف علماء، زعماء، رہنماؤں، دانشوروں اور میڈیا پرسنز کو مدعو کرنا کانفرنس کا اہم ترین حصہ اور کمالِ حُسن ہوتا ہے، نیز یہ پروگرام کو ہمہ گیر و ہمہ جہت بناتا ہے۔ لہذا یہ معاملہ مکمل اعتماد کے ساتھ آپ اپنی قیادت پر چھوڑ دیں کہ وہ جسے مناسب سمجھیں دعوت دیں اور کانفرنس کی کامیابی کےلیے جو بہتر سمجھیں وہ قدم اٹھائیں۔ *بقولِ شاعر:*ہمیں ہیں حکم اذاںلا الہ الا اللہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

دینہ:ممتاز کاروباری و سماجی شخصیت منور حسین لندن سے اپنے آبائی گاؤں کھٹانہ، تحصیل دینہ، ضلع جہلم پہنچ گئے۔ ان کے داماد رضی شاہد مرحوم کے اچانک انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے لیے اہلِ علاقہ سمیت عزیز و اقارب اور دوست احباب کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر پہنچ رہی ہے، جہاں لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے(رپورٹ ادریس چودھری دینہ جہلم)

تازہ ترین خبریں

دینہ:ممتاز کاروباری و سماجی شخصیت منور حسین لندن سے اپنے آبائی گاؤں کھٹانہ، تحصیل دینہ، ضلع جہلم پہنچ گئے۔ ان کے داماد رضی شاہد مرحوم کے اچانک انتقال پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے لیے اہلِ علاقہ سمیت عزیز و اقارب اور دوست احباب کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر پہنچ رہی ہے، جہاں لواحقین سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے(رپورٹ ادریس چودھری دینہ جہلم)