
صحافت یا خوشامد؟ دینہ سمیت ضلع جہلم میں پولیس و انتظامیہ کے قصیدہ خوان، صحافت کے ماتھے پر بدنما داغ!
رپورٹ: ادریس چودھری ۔
دینہ جہلمقلم جب طاقت کی زلف کا اسیر ہو جائے، اور ضمیر مفادات کے دام میں پھنس جائے، تو معاشرے کی آنکھیں اندھی اور کان بہرے ہو جاتے ہیں۔صحافت ایک مقدس، باوقار اور ذمہ دار پیشہ ہے، جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں، ظلم و زیادتی، کرپشن، بدانتظامی اور عوامی مسائل کو بے نقاب کرنا ہے۔ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داری کسی طاقتور شخصیت کی خوشامد کرنا نہیں بلکہ حقائق کو سامنے لانا اور مظلوم کی آواز بننا ہے۔ مگر افسوس کہ آج صحافت کے شعبے میں ایسے نام نہاد صحافیوں کی بھی کمی نہیں جو قلم کی حرمت اور صحافتی اصولوں کو بھلا کر پولیس اور سرکاری انتظامیہ کے قصیدہ خوان بن چکے ہیں۔دینہ سمیت ضلع جہلم بھر میں خوشامدی ٹولے کا راجبدقسمتی سے آج دینہ سمیت پورے ضلع جہلم میں بھی ایسے "خوشامدی صحافیوں” کا ایک باقاعدہ ٹولہ دندناتا پھر رہا ہے، جن کا کام عوامی مسائل اجاجر کرنا نہیں بلکہ مقامی افسران کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ جی ٹی روڈ کے اس خطے میں جہاں عام آدمی مہنگائی، ٹریفک کے مسائل، ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنیادی ڈھانچے اور سرکاری دفاتر کے دھکوں سے تنگ ہے، یہ نام نہاد قلم کار چند ذاتی مفادات، اشرافیہ کی قربت اور سرکاری تقریبات کی فوٹو سیشن تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔مفادات کا اسیر ہوتا قلمیہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحافت کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی تعلقات، مفادات اور سرکاری افسران تک رسائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ دینہ اور جہلم کے مختلف تھانے ہوں یا سرکاری دفاتر، وہاں حاضری دینا، افسران کو پھولوں کے گلدستے پیش کرنا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوا کر سوشل میڈیا پر اپنی قربت کا ڈھنڈورا پیٹنا ان کی روزمرہ کی صحافتی سرگرمیوں کا نمایاں حصہ بن چکا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس معاشرے میں عام آدمی تھانوں کی دہلیز پر انصاف کے لیے دھکے کھا رہا ہو، وہاں ایک "صحافی” کے ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ یا افسر کی شان میں قصیدے کیسے سج سکتے ہیں؟ریاستی چوتھے ستون سے "PR ایجنسی” تک کا سفرآزاد صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون اس لیے کہا گیا تھا کہ وہ حکومت اور اداروں پر کڑی نظر رکھے اور ان کی خامیوں کی نشاندہی کرے۔ لیکن جب دینہ و جہلم کے یہ نام نہاد صحافی انتظامیہ کی محض پریس ریلیز شائع کرنے اور ان کا مثبت امیج بنانے میں مصروف ہو جائیں، تو وہ خبر نگار نہیں بلکہ سرکار کے PR آفیسر بن جاتے ہیں۔ اس رویے سے خبر کی غیر جانب داری ختم ہو جاتی ہے اور عوام کا میڈیا سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔خوشامد، بلیک میلنگ اور دوہرا معیارتعریفوں کے اس کھیل کے پیچھے اکثر ایک دوغلا معیار چھپا ہوتا ہے۔ جو افسر ذاتی کام نکالے یا ناجائز مراعات دے، دینہ اور جہلم کے یہ عناصر اس کے قصیدے پڑھتے ہیں؛ اور جو افسر قانون کے مطابق چلے اور غیر قانونی فائدے نہ دے، اس کے خلاف بلیک میلنگ شروع کر دی جاتی ہے۔ یہ رویہ صحافت کے مقدس پیشے کو داغدار کر رہا ہے۔مظلوم کی آواز دبنا اور تھانہ کلچر کو تقویتجب مقامی سطح پر روزانہ پولیس افسران کے ساتھ فوٹو سیشن ہوں گے اور گلدستے پیش کیے جائیں گے، تو دینہ اور جہلم کے کسی مظلوم شہری میں یہ ہمت ہی نہیں رہے گی کہ وہ ایسے نام نہاد صحافیوں کے پاس پولیس یا انتظامیہ کی زیادتی کی شکایت لے کر جائے۔ خوشامد کا یہ کلچر براہِ راست ظالم کی حوصلہ افزائی اور مظلوم کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔پریس کارڈ کی ارزانی اور تنظیموں کی خاموشیآج بغیر کسی صحافتی پس منظر، اخلاقیات یا تربیت کے پریس کارڈز کی بھرمار نے دینہ سمیت پورے ضلع جہلم میں اس شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ محض گاڑیوں پر "پریس” لکھوا کر اپنا رعب جمانا اور دفاتر کے چکر لگانا ہی اصل مقصود بن چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ مقامی پریس کلبز اور صحافتی تنظیمیں بھی اس بگاڑ پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں، حالانکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔اصل اور باضمیر صحافت کا تقاضاتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی صحافت نے ڈٹنے کا فیصلہ کیا، معاشرے میں انقلاب آیا۔ اصل صحافی وہ ہے جو طاقتور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال پوچھنے کی جرات رکھتا ہو۔ جو تھانوں کے تاریک خانوں، ہسپتالوں کی ابتر حالت اور سرکاری اداروں کی نااہلی کو بے نقاب کرنے سے نہ ڈرے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دینہ اور ضلع جہلم کی صحافتی برادری خود اپنا احتساب کرے۔ ایسے عناصر کو جو قلم کا سودا کرتے ہیں اور وردی یا کرسی کی خوشامد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتے ہیں، کھرے صحافیوں کی صفوں سے الگ کیا جائے۔”قلم خدا کی امانت ہے، اسے اقتدار یا طاقت کے جوتوں میں جھکنے کے لیے نہیں بلکہ سچ کا پرچم بلند کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔”



















