
دینہ (رضوان سیٹھی سے ) دینہ میں کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے زیر اہتمام مستحق لوگوں میں راشن تقسیم کی تقریب ، سینکڑوں گھرانوں میں ہر سال کی طرح اس سال بھی راشن تقسیم کیا گیا ، تقریب کے مہمان خصوصی اسسٹنٹ کمشنر دینہ صفاء عابد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ 2005کے زلزلے کے بعد جس طرح شہید بچوں کی پرورش کر رہی ہے اور اب تک جاری ہے اس کا اجر اور نیکیاں چوہدری اختر حاصل کر رہے ہیں اور آگے بھی کرتے رہیں گے میری دعا ہے کہ یہ سفر جاری و ساری رہے اور میں مبارکباد دینا چاہتی ہوں بچوں کی صحت تعلیم اور دیگر کاوش جو کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیاب کرے نوجوان نسل کوئی کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھیں تاکہ باعزت روزی کما سکیں میں ہمیشہ آپ کے لیے موجود ہوں مجھے بھی اس بورڈ کا حصہ اور ممبر سمجھیں جب بھی میری یا ہیڈ منسٹریشن سے کام ہو تو میں حاضر ہوں ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دینہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے انچارج حاجی افتخار احمد مغل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کی بدولت نیکیاں کما رہا ہوں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگلے سال ان کو راشن دینے والا بنائے اور اس سوچ سے باہر نکلیں جب آپ اپنے خیال اور سوچ کو بڑا کریں گے تو ترقی کریں گے اگر آپ اپنی سوچ کو اسی طرح محدود کریں گے تو اسی طرح راشن مانگنا پڑے گا آپ نے اپنے بچوں کی طرف توجہ دینی ہے حالات کی طرف توجہ دینی ہے خدا کی ذات پر بھروسہ نہیں یقین کرنا ہے غریب ہونا کوئی جرم نہیں ہے اللہ تعالیٰ کسی محنت کو رئیگاں نہیں کرتا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد شکیل سینئر ایگزیکٹو ممبر کورٹ میر پور نے کہا کہ چوہدری چیئر مین کی ہدایت پر سو فیصد عمل ہو رہا ہے کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کے تحت ہم لوگوں کی مدد کرتے ہیں لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے کورٹ 12ہزار سے زائد لوگوں میں راشن تقسیم کر رہا ہے اور 600کے قریب بچوں کی پرورش کر رہے ہیں 40کے قریب بچے قرآن پاک حفظ کر چکے ہیں اور انشا ء اللہ کورٹ کا ادارہ مدینہ پاک میں بھی بنانے جا رہے ہیں کورٹ میں بچوں نے کبھی پرانے کپڑے نہیں پہنے مکمل چھان بین کے بعد بچوں کا رشتہ کرتے ہیں اور ابھی 500بسروں کا ہسپتال بنا رہے ہیں اور مختلف علاقوں میں مساجد کمپیوٹر کی تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ چوہدری اختر کو مزید ہمت اور ترقی دے جو ان کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ، تقریب سے چوہدری زاہد ناگی و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔



















