چیف ایڈیٹر:طارق محمود چودھری  ایڈیٹر: مظہر اقبال چودھری  مینیجنگ ایڈیٹر: ادریس چودھری

اکتوبر 25, 2026 5:03 صبح
تازہ ترین خبریں

*بھارت کی پھر الزام کہانی*تحریر: غضنفر علی اکرام

*بھارت کی پھر الزام کہانی*تحریر: غضنفر علی اکرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ روز انڈین میڈیا کے ایک چینل پر ایک رپورٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا رپورٹ کیا تھی بس پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے بارے میں زہر تھا جو اگلا جارہا تھا رپورٹ کے نکات کچھ اس طرح تھے کہ یہ آرمی چیف بنیاد پرست ہے ان کا تعلیمی بیک گراؤنڈ مدرسہ ہے ان کے والد ایک مولانا تھے انہوں نے انہیں جہادی سوچ کے ذریعے پروان چڑھایا پھر یہ آرمی میں بھی پاکستان ملٹری اکیڈمی کے ذریعے نہیں بلکہ آفیسر ٹریننگ سکول کے ذریعے پہنچے اور پلوامہ واقعہ کے وقت یہ ڈی جی آئی ایس آئی تھے اور یہ ڈی جی ایم آئی بھی رہ چکے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔مطلب یہ کہ انڈیا میں ہونے والے دیشتگردانہ حملوں کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے اور یہ بہت ضدی جرنیل ہیں جب ایک فیصلہ کر لیں تو پیچھے نہیں ہٹتے اور جب تک یہ پاکستان کے آرمی چیف ہیں بھارت میں پھر دہشت گردی ہو گی اور پھر جنگی حالات ہوں گےان کاٹھ کے الوؤں کو دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آ جاتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا ان کا تو ہر فوجی ،سیاسی اور انٹیلیجنس کا ادارہ پاکستان میں اور دیگر ہمسایہ ملکوں میں ہمیشہ سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے پاکستان میں ان کا سرونگ نیول آفیسر کلبھوشن زیر حراست ہے جو دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا افغانستان میں بیٹھ کر یہ ریاستی دہشت گردی کراتے ہیں اور ان کے پلید وزیر اعظم درندر مودی اور اور قومی سلامتی کا چیف اجیت ڈوول علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو فنڈز اور ٹریننگ مہیا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے پاکستان کو تو چھوڑیۓ کوئی ایک ہمسایہ ملک ان کی دست برد سے محفوظ نہیں ہمسائیوں کو بھی چھوڑیں بھارت نے کینیڈا اور امریکا میں بھی سکھ لیڈروں کو دہشت گردی کے ذریعے مروایا ہے اصل میں جنرل عاصم منیر نے پہلی دفعہ درندر مودی کو چاروں شانے چت کر دیا ہے اور صرف دو گھنٹے کی چھترول میں اس کا چھپن انچ کا سینہ چھ انچ کر دیا ہے اور اس کی سرخ آنکھوں میں جھانکا ہی نہیں بلکہ مار مار کے اس کی ہر چیز سرخ کر دی ہے اب اس چینل کی رپورٹ کے مطابق الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ جنرل عاصم پھر کوئی "واردات” کرا کے بھارت سے جنگ چھیڑ دینگے جبکہ اصل میں یہ ارادے ان کے اپنے ہیں کیونکہ ہار کا درد انہیں رات کو سونے نہیں دیتا اس لیۓ جنرل عاصم کو اور قوم کو ہر وقت تیاری میں رہنا چاہیۓ کیونکہ دشمن عالمی لیول کا غنڈہ ،دہشت گرد اور کمینہ ہے اور اس کی کسی نئی واردات سے ہوشیار رہنا اور جنرل عاصم منیر کا اپنی سیکیورٹی پر بھرپور توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے بھارت کسی نئی سازش کو رچا کر پاکستان کو ایک بار پھر بدنام کر کے عالمی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کرے گا اور اللہ نہ کرے اس بار وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہو اس لیۓ حاصل شدہ کامیابی اور اس کے آہنگ کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور اس کے اسرائیل جیسے مکار اتحادی سے بھی آگاہ رہنا ضروری ہے اور انڈیا میں آنے والے نۓ اسلحہ کی کھیپوں سے بھی آگاہی ضروری ہے انڈیا اس وقت زخمی سانپ کی طرح زیادہ خطرناک ہے اور پاکستان کی تمام اندرونی بیرونی سیکیورٹی پر مامور ایجنسیوں کے لیۓ ایک ایک لمحے کی ہونے والی ڈیویلپمینٹ پر کڑی نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے اور سپہ سالار کی ذاتی حفاظت تو از حد ضروری ہے ہم کسی المیۓ کے ہر گز متحمل نہیں ہو سکتے اور نوجوانان قوم سے بھی التماس ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر میمز بنانے کے شوق لا حاصل کو چھوڑ کر اللہ کی نصرت حاصل کرنے کے لیۓ سجدہ شکر بجا لائیں اور سپہ سالار نے علامہ اقبال کے جس شعر کو بنیاد بنا کر اوور سیز ناجوانوں سے خطاب کیا تھا اس کی عملی تصویر بن جائیںاپنی ملت پر قیاس اقوم مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب

جہلم:اِبنِ عباس اسلامک سینٹر جہلم کے زیرِ اہتمام فقید المثال تقریبِ حمد و نعت کا انعقاد ہواتقریب میں طلبائے مرکز کے مابین ہونے والے مقابلۂ حُسنِ تلاوت کے نتیجہ میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلیے انعامات کی بارش کی گئی: طلبہ کو نقد انعامات اور اعزازی اسناد سے نوازا گیا

تازہ ترین خبریں

جہلم( ادریس چودھری) رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ذاتی کردار، خاندانی تعلقات، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور معاشرتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ قرآنِ کریم کے پیغام کو سمجھنے کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو اپنی زندگی میں کس طرح عملی صورت دی۔ انہوں نے شرکاء کو قرآن و سیرت سے اپنا تعلق مضبوط بنانے اور ان تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کی تلقین کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا شکاگو میں قونصل خانہ پاکستان اور سبیل سینٹر کے اشتراک سے سیرتِ طیبہ ﷺ کانفرنس سے خطاب

روز قیامت کی سختی میں جب لوگ ہوش میں ہوتے ہوئے بھی مدہوش ہونگے لیکن وہ جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اتباع رسالت ﷺ اختیار کیا اور خود کو اسوہ حسنہ میں ڈھال لیا ایسے لوگوں کو رحمت الٰہی گھیر لی گی اور ان کو اس دن کا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا۔صحابہ کرام ؓ نے اس دعوی محبت کو عملی طور پر ثابت کر کے دکھایا۔یہ زمین و آسماں گواہ ہیں کہ ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پر توکل کر کے وہ کام کر دکھایا جو ظاہراًنہ ہو سکتا تھا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا سانفرانسیسکو، اے ایم ایل مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب