

دینہ//تحصیل دینہ موبائل دکانداروں کا ڈنکے کی چوٹ پر لاؤڈ سپیکر کا استعمال ۔ قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔انتظامیہ خاموش تماشائی بن گئی۔شہریوں کا سکون غارت ھو گیا۔ رپورٹ ۔ پروفیسر خورشید علی ڈار جہلم ( پروفیسر خورشید علی ڈار )حکومت پنجاب نے لاؤڈ سپیکر پر پابندی لگا رکھی ہے .مقام افسوس تحصیل دینہ کی انتظامیہ حکم ہذا پر عمل نہیں کروا سکی اب تمام سبزی فروش …فروٹ فروش با اواز بلند لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہوتا ہے اس سے بچے اور مریض ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں قانون کے مطابق کوئی بھی لاؤڈ سپیکر کا استعمال نہیں کر سکتا …داتا روڈ ….منگلا روڈ ….جی ٹی روڈ ….مین بازار ….پر بے تحاشہ لاوڈ سپیکر استعمال ہوتا ہے ظلم اس بات کا ہے کہ اب پروفیشنل گداگر بھی گلیوں میں لاوڈ سپیکر کا استعمال کرتے ہیں یہی حالت دیہاتیوں کی ہے تمام مذکورہ لوگ گاؤں میں جا کر بے دریغ لاوڈ سپیکر کا استعمال کرتے ہیں مشاہدے میں ایا ہے کہ بعض مساجد اذان سے ہٹ لاوڈ سپیکر کا بھی استعمال کرتے ہیں یہ چیز ہر حوالے سے قابل گرفت ہے اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کےلاوڈ سپیکر کا استعمال کرنے والے دیگر جرائم میں بھی ملوث ہیں بعض اوقات بس سٹاپ یا پھر ریلوے پھاٹک دینہ میں بھی یہ لوگ لاوڈ سپیکر کا استعمال کرتے ہیں انتظامیہ مسجد موزن کی امداد حاصل کر کے اس مسئلے پر کنٹرول کر سکتی ہے مسجد سے اعلان ہونا چاہیے کہ شہری اپنی گلی میں لاؤڈ سپیکر کا استعمال نہ ہونے دیں نیز انتظامیہ کو اگاہ کریں



















